اسلام پر اعتراض کا جواب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۴
اسلام کی حقیقی تعلیمات ایک مومن کو انسان فرینڈلی بناتی ہیں۔ جس آدمی کا ذہن قرآن سے بنا ہو وہ دوسری قوموں کو رحمت و شفقت کی نظر سے دیکھے گا۔ وہ یک طرفہ طور پر اُن کا خیر خواہ بنا رہے گا۔ اسی کا نام مثبت ذہن ہے۔ یہ مثبت ذہن جب مسلمانوں میں ہو تو اس کے نتیجے میں اُن کے اندر حوصلہ اور آفاقیت پیدا ہوگی۔ وہ ہر شعبے میں کامیاب رہیں گے۔ اسی کے ساتھ اُن کا یہ مثبت ذہن دعوت کے عمل کو تیز تر کرنے میں معاون بنے گا۔ (ممبئی کا سفر، نومبر 2004) ڈیبیٹ، دعوت ایک صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آرٹ آف تھنکنگ کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانیں۔ مثال کے طور پر آپ لوگ اکثر ڈیبیٹ (debate) کو دعوت کہتے ہیں۔ حالاں کہ ڈیبیٹ اور دعوت میں بنیادی فرق ہے۔ ڈیبیٹ اپنے مقابل میں دوسرے کو زیر کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ ڈیبیٹ در اصل ایک قسم کی تقریری پہلوانی ہے۔ اس کے مقابلہ میں دعوت ایک دردمندانہ عمل ہے۔ دعوت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فریق ثانی کو دل سوزی کے انداز میں سچائی کا پیغام پہنچایا جائے تا کہ وہ اُسے اپنے دل کی بات سمجھے اور اُس کو قبول کرلے۔ ڈیبیٹ (مناظرہ) اور دعوت دونوں کے نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ڈیبیٹ سے ڈیبیٹر کے اندر فخر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف فریق ثانی کے اندر وہ نفرت کا جنگل اگاتا ہے۔ ڈیبیٹ اپنے نتیجے کے اعتبار سے دعوت کا قاتل ہے۔ دعوت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ دعوت در اصل محبت و شفقت کا اظہار ہے۔ وہ داعی کے اندر احساسِ ذمے داری کو جگاتی ہے اور دوسری طرف مدعو کے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنے اندر نظر ثانی کرے اور سچائی کا متلاشی بن جائے، یہاں تک کہ سچائی کو اپنا کر وہ خدا کے ان بندوں میں شامل ہو جائے جن سے خدا قیامت میں راضی ہوگا۔ (ممبئی کا سفر، نومبر (2004)
اسلام پر اعتراض کا جواب
ایک صاحب نے معترضینِ اسلام کا سروے کر کے ساٹھ سوالات بنائے تھے۔ انہوں نے یہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues