Al-Risala · October 2019 · page 15

مدعو کی رعایت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۵

سوالات مجھ کو لکھ کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ان سوالات کا جواب تیار کر دیں تو ہم ان کو شائع کر کے بڑی تعداد میں پھیلائیں گے تاکہ اسلام کے خلاف غلط فہمیاں ختم ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں۔ یہ سوالات ہمیشہ سنی سنائی باتوں پر ہوتے ہیں۔ وہ کسی گہری سوچ کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سوال کا جواب دیتے رہتے ہیں مگر اسلام کے خلاف غلط فہمیاں ختم نہیں ہوتیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ لوگوں کے اندر آرٹ آف تھنکنگ پیدا کی جائے۔ لوگوں کو صحیح طرز پر سوچنے والا بنایا جائے۔ اس کے بعد لوگ خود ہی ہر سوال کا جواب پالیں گے۔ (ممبئی کا سفر، نومبر 2004) فطرت کو موقع دینا 29 نومبر 2003 کوناگپور سے دہلی کے لیے میں آندھرا پردیش ایکسپریس کے ذریعہ سفر کر رہا تھا۔ میرے کیبن میں ایک ریلوے افسر سفر کر رہے تھے۔ ابتدا میں وہ مجھ سے بالکل بے تعلق رہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک مغرور آدمی ہیں۔ مگر جب انہوں نے مجھ کو قریب سے دیکھا اور میری چند باتیں سنیں، تو وہ بالکل بدل گئے، اور مجھ سے نہایت تواضع کے ساتھ پیش آنے لگے۔ (واردھا کا سفر)

مدعو کی رعایت

ایک اور سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوتی کام کرنے کے لیے ہم نے بہت سے بروشراور پمفلٹ انگریزی زبان میں شائع کیے ہیں۔ یہ اس لیے ہیں کہ آپ اور دوسرے تمام لوگ ان کو حاصل کر کے اپنے اپنے حلقے میں پھیلائیں۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے ہینڈ بیگ میں اُن کورکھے اور ملاقات اور انٹریکشن کے دوران وہ اُنہیں لوگوں تک پہنچاتا رہے۔ ان میں اسلام کو عمومی اور آفاقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تیار کی ہوئی تمام کتابیں شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلمانوں کے ذہن کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں۔ اس لیے وہ غیرمسلموں کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتیں۔ ہم نے ان کتابچوں کو عمومی انسانی انداز میں تیار کیا ہے۔ تاکہ ہر ایک اس میں سے اپنے تجسس کا جواب پا سکے۔ یہ کتابیں مختصر ہونے کی بنا پر ایسی ہیں کہ آدمی فوراً ہی ان کو

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page