Al-Risala · October 2019 · page 16

ختم نبوت کا مطلب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۶

پڑھ لے ۔ (ممبئی کا سفر، نومبر 2004)

ختم نبوت کا مطلب

ایک موقع پر میں نے ایک حدیث کی وضاحت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میرے اوپر نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں ( مسند احمد، حدیث نمبر 23358)۔ اس کا مطلب سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہے کہ گنتی کے اعتبار سے پیغمبروں کی فہرست مکمل ہوگئی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد اب کسی اور پیغمبر کے آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ وہ اسباب ختم ہوگئے، جس کی وجہ سے بار بار پیغمبر بھیجے جاتے تھے۔ میں نے کہا کہ پیغمبر کا مقصد ہدایت الہی کو انسانوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے لیے پیغمبر کا شخصاً موجود ہونا ضروری نہیں۔ اگر ایک ایسا گروہ موجود ہو، جو پیغمبر کے نمائندے کی حیثیت سے امر حق لوگوں تک پہنچاتا رہے تو ایسی حالت میں پیغمبر مبعوث نہیں کیا جائے گا۔ پیغمبر اسلام کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ خدا کا کلام (قرآن) اپنی اصلی حالت میں مکمل طور پر محفوظ ہو گیا۔ یہ حفاظت اس بات کی ضمانت بن گئی کہ ہر نسل میں اور ہر زمانہ میں ایسے افراد موجود رہیں، جو ہدایت الہی کی صحیح معرفت حاصل کر کے اُسے دوسروں تک پہنچائیں۔ پیغمبر آخر الزماں سے پہلے اس قسم کی ضمانت موجود نہ تھی اس لیے بار بار پیغمبر بھیجے جاتے رہے۔ (ممبئی کا سفر، نومبر 2004) سفر میں دعوت ایک مجلس میں میں نے بتایا کہ موجودہ زمانہ میں سفر دعوت کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں میں نے مولانا محمد ذکوان ندوی کا ایک تجربہ بتایا۔ یہ تجربہ ان کے بیان کے مطابق یہ ہے : ”جون 2005 کو میں نے دہلی اور لکھنؤ کے درمیان ایک سفر کیا۔ یہ سفر گومتی ایکسپریس کے ذریعہ ہوا۔ جب میں اپنی ڈائری لکھ رہا تھا، تو میرے ہم سفر مسٹر ہریش نے سوال کیا: آپ کیا لکھ رہے ہیں؟ میں نے کہا: ڈائری۔ اس طرح بات چیت شروع ہوئی۔ پھر میں نے انھیں گڈ ورڈ بکس سے چھپے ہوئے ہندی اور انگریزی کے کچھ دعوتی پمفلٹس دیے۔ اس کو انھوں نے پڑھا۔ وہ ان

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page