Al-Risala · October 2019 · page 17

ختم نبوت کا مطلب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۷

سے کافی متاثر ہوئے، اور انہوں نے کہا میں آپ لوگوں سے ملنے آؤں گا۔ مسٹر ہریش دہلی کے ایک ٹی وی چینل (آنکھوں دیکھی) کے نمائندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو جب بھی کوئی پروگرام کرنا ہو، فون کیجئے۔ میں اپنی ٹیم کے ساتھ آؤں گا اور پروگرام ریکارڈ کر کے نشر کروں گا۔ دوسری سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب مسٹر شنکر رونیار (غازی آباد) نے بھی بڑھ کر ایک پمفلٹ لیا اور اس کو پڑھنے کے بعد کہا: بہت اچھا لکھا ہے۔ مگر اس میں کچھ کڑپنھ ہے۔ میں نے کہا کہ پمفلٹ میں لکھی ہوئی کوئی ایک بات بتائیے جس سے آپ نے یہ جانا کہ اس میں کڑپنھ ہے؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ پھر انہوں نے کہا: اسلام میں چار شادی کا حکم ہے جس کی کوئی لاجک میری سمجھ میں نہیں آتی۔ میں نے کہا: آپ کی عمر مجھ سے بہت زیادہ ہے، آپ مجھے کسی ایک مسلم فیملی کا نام بتائیے جس نے چارشادیاں کی ہوں۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے کہا: میرے علم میں تو ایسا کوئی آدمی نہیں۔ میں نے کہا: جو چیز عملاً موجود نہیں اس میں الجھنے کی ضرورت کیا ہے۔ تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد وہ دوسرے پمفلٹ دیکھنے لگے۔ پھر کافی اختلاط شروع ہو گیا، اور کئی لوگوں نے سوالات شروع کر دیے۔ مسٹر شنکر رونیار نے ہندی کتابچہ سَفَلتا کے سوتر پڑھا اور کہا: اس کا لکھنے والا تو بڑا گیانی معلوم ہوتا ہے۔ وہ کافی متاثر ہوئے، انہوں نے کہا کہ اس رائٹر سے تو ملنا چاہیے ۔ میں ضرور دہلی آکر ان سے ملوں گا، اور آشیرواد لوں گا۔ سامنے بیٹھی ہوئی دو غیر مسلم خواتین نے بھی دوسرے ہندی انگریزی پمفلٹس کے علاوہ ’’سفلتا کے سوتر دیکھا اور بہت پسند کیا۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے اس کتابچے سے کیا سیکھا؟ انہوں نے کہا مجھے اس سے حوصلہ ملا، اور میں نے سیکھا کہ آدمی کو کسی بھی حال میں اپنا حوصلہ نہیں کھونا چاہیے۔

دوران گفتگو بہت سے لوگوں نے شوق سے CPS کے کتابچے لیے، ایک صاحب مسٹر ہریش کمار (پنجاب) اپنی سیٹ سے اُٹھ کر میرے پاس آئے اور کچھ کتابچے حاصل کیے۔ میں نے ان سے کچھ باتیں کیں اور پوچھا آپ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں نغمے گاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ سچا نغمہ ایک خدائی نغمہ ہے۔ آپ سچے نغمے گائیے۔ اس پر وہ مسکرائے اور کتابچے لے کر اپنی فیملی کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page