Al-Risala · October 2019 · page 18

ختم نبوت کا مطلب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۸

ساتھ بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد میرے پاس آئے اور کہا میں آپ سے مل کر بہت خوش ہوا۔ آپ نے تو میری آنکھیں کھول دیں۔ مجھے آپ سے محبت محسوس ہورہی ہے۔ آپ برائے کرم میری اس کتاب پر اُردو میں میرا نام اور اپنا فون نمبر لکھ دیں۔ میں نے کہا آپ اُردو جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں، بس آپ کی یادگار ہو جائے گی۔

دورانِ سفر ان حضرات سے دعوتی انداز میں باتیں ہوتی رہیں۔ اس طرح نو گھنٹے کا یہ سفر خدا کے فضل سے ایک دعوتی سفر بن گیا۔ اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد اُن لوگوں نے کہا ”آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ کی وجہ سے ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ اس سفر میں ہمیں سچائی ملی، یہ سفر ہمارے لیے ایک تاریخی سفر بن گیا“۔

یہ تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں دعوت کے امکانات کتنے بڑھ گئے ہیں۔ سفر اور دوسرے مواقع پر ایسا ہوتا ہے کہ بار بار لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، اگر آدمی کے اندر داعیانہ ذہن موجود ہو تو وہ ان ملاقاتوں کو کامیابی کے ساتھ دعوت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ (ممبئی کا سفر، نومبر 2004) دعوتی مزاج، فقہی مزاج 17 جولائی 2005 کو اتوار کا اسپرچول کلاس 1، نظام الدین ویسٹ مارکیٹ میں تھا۔ یہاں بلڈنگ کے ایک فلور کو خالی کر کے اس کو ایک ہال کی صورت میں از سر نو بنایا گیا ہے۔ یہ فلور اب ان شاء اللہ اسی خاص مقصد کے لیے استعمال ہوگا۔ اس اسپرچول کلاس میں عورت اور مرد دونوں ایک ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آج کی ملاقات میں اس پر ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ وہاں عورت اور مرد دونوں ایک ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کے لیے ایک علیحدہ کمرہ مخصوص ہونا چاہیے تھا۔ یہ صاحب خود بھی 17 جولائی کے اس پروگرام میں شریک تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ معاملے کو دیکھنے کے دو مختلف زاویے ہیں۔ ایک ہے فقہی زاویہ اور دوسرا ہے دعوتی زاویہ۔ فقہی نقطہ نظر سے آپ کی بات درست ہوسکتی ہے مگر دعوتی مصلحت کے اعتبار سے یہاں دیکھیں تو جو ہورہا ہے وہی آپ کو درست نظر آئے گا۔ آپ چوں کہ دعوتی کام نہیں کر رہے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page