خیر خواہی کا ذہن
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۹
اس لیے آپ اس قسم کی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں دعوتی کام کریں تو آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ یہاں جو ہو رہا ہے عملی طور پر وہی درست ہے۔ یہ در اصل تالیف قلب کا مسئلہ ہے اور تالیف قلب کی اہمیت کو صرف داعی انسان سمجھ سکتا ہے۔
تالیف قلب کی اہمیت اسلام میں بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے زکوٰۃ کی آٹھ مدوں میں سے ایک مد تالیف قلب کی ہے۔ تالیف قلب سے مراد وہی چیز ہے جس کو دل جوئی کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں کو نرم کیا جائے تاکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ اسلام پر غور و فکر کر سکیں۔ تالیف قلب دراصل ایک دعوتی ضرورت ہے۔ تالیف قلب کا مقصد یہ ہے کہ دعوت کے موافق ماحول بنایا جائے۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً لوگوں کے لیے کوئی مفید رفاہی کام کرنا، لوگوں کے مزاجی بگاڑ کی بنا پر ان کی رعایت کرنا، داعی اور مدعو کے درمیان حالات کو معتدل بنانا، لوگوں کو کس نوعیت کا مادی فائدہ پہنچانا تا کہ وہ اس سے متاثر ہو کر اسلام پر غور و فکر کر سکیں۔ خلاصہ یہ کہ بزنس میں جس چیز کو کسٹمر فرینڈلی سلوک کہا جاتا ہے، اسی کو مدعو کے اعتبار سے استعمال کرنے کا نام تالیف قلب ہے، یعنی مدعو فرینڈلی سلوک اختیار کرنا۔ (بنگلور کا سفر )
خیر خواہی کا ذہن
ایک سوال یہ تھا کہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام کیسے پہنچایا جائے۔ میں نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ان لوگوں کو کافر کہنا چھوڑ دیا جائے۔ حتیٰ کہ دل سے بھی انہیں ایسا نہ سمجھا جائے۔ ان کو صرف انسان سمجھا جائے اور انسان کہا جائے۔ جب تک ایسا نہیں ہو گا ان کے لیے آپ کے دل میں سچی خیر خواہی پیدا نہیں ہو گی، اور سچی خیر خواہی کے بغیر دعوتی کام کا آغاز ہی نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ ایک بزنس مین لوگوں کو صرف کسٹمر کے روپ میں دیکھتا ہے، وہ ان کو مسلم اور کافر، یا اپنی قوم اور غیر قوم کے الفاظ میں نہیں بانٹتا، وہ سب کو یکساں طور پر انسان کے روپ میں دیکھتا ہے۔ اسی طرح سچا داعی وہ ہے، جو انسان کو اپنے اور غیر، یا دوست اور دشمن میں تقسیم نہ کرے، بلکہ سب کے لیے شفقت کا وہی جذبہ رکھے، جو ایک ماں کے دل میں اپنی اولاد کے لیے ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues