Al-Risala · October 2019 · page 20

خیر خواہی کا ذہن

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۰

رسول اللہ نے عرب میں دعوتی کام شروع کیا تو آپ نے یہ فرمایا: اے انسانو! ، اے میری قوم والو! ۔ پیغمبر لوگوں کی ہدایت کا حریص ہوتا ہے۔ یہی پیغمبر کا سب سے بڑا دعوتی سرمایہ ہے۔ آپ قرآن کو پڑھیں تو اس میں اس قسم کی کوئی چیز نہیں ملے گی جس کو آج کل پروگرام کہا جاتا ہے۔ مگر رسول اور اصحاب رسول کے دل میں لوگوں کی ہدایت کے لیے بے پناہ شفقت اور خیر خواہی موجود تھی۔ یہی جذبہ ان کے لیے دعوتی کام کا سب سے بڑا رہنما بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ داعی ایک پروگرام ساز انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر موقع کے لیے خود ہی پروگرام وضع کر لیتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کل دعوت کے نام پر بہت سے کام کیے جا رہے ہیں، مگر میرے علم کے مطابق یہ سب مطلوب دعوتی کام نہیں۔ ان کاموں میں سے کوئی ڈیبیٹ ہے، کوئی اصلاح ہے، کوئی کمیونٹی ورک ہے اور کوئی قومی یا سیاسی کام ہے۔ بذات خود یہ سب کام مفید ہو سکتے ہیں، مگر ان کاموں کو دعوت الی اللہ کا کام نہیں کہا جا سکتا۔ (بنگلور کا سفر) عصر حاضر کا فتنہ ایک اور بات جو سمجھ میں آئی وہ یہ کہ قدیم زمانہ کا فتنہ اگر شرک تھا تو موجودہ زمانہ کا فتنہ مادیت یا مال ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً وَفِتْنَةُ أُمَّتِي الْمَالَ (جامع الترمذي، حدیث نمبر 2336)۔ یعنی بیشک ہر امت کا ایک فتنہ ہے، اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت محمدی کے ظہور کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا جب کہ مال یا مادیت سب سے بڑا فتنہ بن جائے گا۔

پٹاپرھی میں تقریباً پچاس ہزار لوگ جمع تھے۔ ان کی ننانوے فیصد تعداد ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھی۔ یہی منظر دوسرے ہندو پیشواؤں کے یہاں نظر آتا ہے۔ عورت اور مرد دونوں بہت بڑی تعداد میں ان کے آشرموں میں آتے ہیں تا کہ ان کا آشیرواد لے سکیں۔ اس تمام بھیڑ کا محرک صرف ایک ہے اور وہ ہے مادی برکت حاصل کرنا۔ ایسے لوگوں کو اگر اسلام کا پیغام پہنچایا جائے تو وہ اس کی طرف اسی وقت متوجہ ہوں گے جب کہ انہیں اسلام میں مادی فائدہ دکھائی دے، جیسا کہ گرو

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page