جاننے والوں کا نہ جاننا
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۶
جاننے والوں کا نہ جاننا
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ الیکشن سے پہلے ہمارے اسکول کے تمام اسٹوڈنٹ، ایک کمیونٹی والے اور دوسری کمیونٹی والے، دونوں مل جل کر رہتے تھے۔ لیکن الیکشن کے بعد ان کے اندر دوری آگئی۔ ہر کمیونٹی کا اسٹوڈنٹ دوسری کمیونٹی کے اسٹوڈنٹ کو اپنا غیر سمجھنے لگا۔
اس صورت حال کا الزام وہ پوری طرح دوسری کمیونٹی کو دے رہے تھے۔ یہی تمام لوگوں کا حال ہے۔ تمام لوگ صورت حال کی ذمے داری تمام تر دوسری کمیونٹی پر ڈالے ہوئے ہے۔ وہ اپنی کمیونٹی کو مکمل طور پر معصوم، اور دوسری کمیونٹی کو مکمل طور پر ذمے دار سمجھتے ہیں۔ یہ سراسر بے خبری کی بات ہے۔ نیوٹن (1643-1727) کا مشہور فارمولا ہے ــــ ہر عمل کا برابر مگر مخالف رد عمل ہوتا ہے: For every action, there is an equal and opposite reaction. یہ ایک فطرت کا قانون ہے جس کو نیوٹن نے دریافت کیا تھا، اس لیے اس کو نیوٹن سے منسوب کر دیا گیا۔ نیوٹن نے یہ فارمولا مٹیریل ورلڈ کے بارے میں دریافت کیا تھا، لیکن یہی فارمولا خود انسانی دنیا پر بھی منطبق (apply) ہوتا ہے۔ مادی دنیا میں یہ فارمولا غیر شعوری انداز میں منطبق ہوتا ہے، اور انسانی دنیا میں یہ فارمولا شعور کے ساتھ منطبق ہوتا ہے۔
پچھلے دو الیکشن میں ایک کمیونٹی نے سارے ملک میں اس پالیسی پر عمل کیا کہ مخالف پارٹی کو ہراؤ۔ اس نشانے کے لیے پورے ملک میں ایک ملک گیر تحریک چلائی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری پارٹی میں اس کاری ایکشن ہوا۔ ایک کمیونٹی نے جب دوسری کمیونٹی کے بارے میں یہ ایجنڈا اختیار کیا کہ ہمیں دوسری کمیونٹی کو ہرانا ہے، تو دوسری کمیونٹی کے لوگوں میں اس کے رد عمل کے طور پر یہ ذہن عام ہو گیا کہ ہم کو اپنی کمیونٹی کو جتانا ہے۔ غیر یت (Otherness) کے اس ماحول میں فطری طور پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا ہوئی۔ ہارنے والی کمیونٹی کے بس میں صرف نفرت
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues