Al-Risala · October 2019 · page 27

جاننے والوں کا نہ جاننا

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۷

تھی، اس نے نفرت کی بات کا چرچا کیا۔ جیتنے والی کمیونٹی کے پاس طاقت تھی، اس نے ہارنے والی کمیونٹی کو اپنے انتقام کا شکار بنایا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں جیتنے والی کمیونٹی کے حصے میں تو صرف نفرت آئی۔ لیکن ہارنے والی کمیونٹی کے حصے میں فطری طور پر انتقام آیا۔ اب ہارنے والی کمیونٹی اس انتقام کا شکار ہورہی ہے۔ یہ غیریت (otherness) کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔

اب دوسری کمیونٹی کو دشمن بتا کر اس کو برا بھلا کہنا، یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ یہ طریقہ صرف نقصان میں اضافہ کرنے والا ہے۔ اس طریقے کا نقصان یہ ہوگا کہ ہر موڑ پر، ہر معاملے میں ہارنے والی کمیونٹی کو جیتنے والی کمیونٹی کی انتقامی کارروائی کا تجربہ ہوگا۔ نفرت کے جواب میں مزید نفرت پیدا ہوگی۔ مسائل بڑھیں گے۔ نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ ہارنے والی کمیونٹی کو پہلے جو کچھ ملا ہوا تھا، وہ بھی اس سے چھن جائے گا۔ قدیم روایتیں سب کی سب ٹوٹ جائیں گی۔ مغایرانہ پر اسس (othering process) اتنا زیادہ بڑھے گا کہ راستے میں، بازار میں، اسکول اور کالج میں، ہر جگہ ہارنے والی پارٹی کو اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔

اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے ہارنے والی کمیونٹی کو اس بات کا دل سے اعتراف کرنا ہوگا کہ اس کی پالیسی غلط تھی۔ وہ اپنے لیڈروں کی جذباتی باتوں کا شکار ہو گئے۔ اب ہارنے والی پارٹی کو یہ کرنا ہوگا کہ اپنے آپ کو مکمل طور پر بدلے۔ وہ غیریت کے بجائے اپنا پن کا طریقہ اختیار کرے، وہ نفرت کے بجائے انسانوں سے محبت کرنا سیکھے۔ وہ دوسرے کی شکایت کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے والی کمیونٹی بنے۔

وہ قرآن کی ان آیات کی حکمت کو سمجھے، اور ان کو دل سے اپنی زندگی میں اپنائے: (ترجمہ) اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔ اور اگر شیطان تمہارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگو۔ بیشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (34-41)

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page