Al-Risala · January 2019 · page 49

ایک سوال

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۴۹

ہونے والا ری ایکشن ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی بیوی عائشہ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تربیت نتیجہ خیز کیسے ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا تھا: اِنَّمَا نَزَلَ اَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنْهُ سُوْرَةٌ مِّنَ الْمُفَصَّلِ، فِیْهَا ذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، حَتَّی اِذَا ثَابَ النَّاسُ اِلَی الْإِسْلَامِ نَزَلَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ، وَلَوْ نَزَلَ اَوَّلَ شَيْءٍ: لَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ، لَقَالُوا: لَا نَدَعُ الْخَمْرَ اَبَدًا، وَلَوْ نَزَلَ: لَا تَزْنُوْا، لَقَالُوا: لَا نَدَعُ الزِّنَا اَبَدًا، لَقَدْ نَزَلَ بِمَكَّةَ عَلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَجَارِيَةٌ اَلْعَبُ: بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰی وَاَمَرُّ [54:46] وَمَا نَزَلَتْ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ وَالنِّسَاءِ اِلَّا وَاَنَا عِنْدَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993)۔ یعنی سب سے پہلے جو چیزیں نازل ہوئیں، ان میں ایک مفصل کی سورت ہے۔ اس میں جنت اور دوزخ کا ذکر ہے۔ پھر جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے، اس کے بعد حلال و حرام (کے احکام) اترے اگر ابتدابی میں یہ اترتا کہ شراب نہیں پینا تو لوگ کہتے ہم تو کبھی بھی شراب پینا نہیں چھوڑیں گے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہیں کرنا تو لوگ کہتے ہم تو زنا نہیں چھوڑیں گے۔ اس کے بجائے مکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: بل الساعة موعدهم والساعة ادھی وامر (بلکہ قیامت ان کے وعدہ کا وقت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بڑی کڑوی چیز ہے)۔ اس وقت جب میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی۔ (اس کے برعکس)، سورۃ البقرہ اور سورۃ النساء اس وقت نازل ہوئی، جب کہ میں (مدینہ میں) آپ کے پاس آگئی تھی۔

سوال: موجودہ دور میں امت کی حالت کے اعتبار سے کمی کہاں ہے؟

جواب: صرف ایک دورِ جدید سے بے خبری۔ موجودہ دور کو سمجھنے کے لیے مودودی اور سید قطب کی کتاب کو نہ پڑھا جائے، بلکہ اس کتاب کو پڑھا جائے:

The Great Intellectual Revolution, by John Frederick West سوال: آپ کے اعتبار سے قرآن کا مطلوب انسان کون ہے، جیسا کہ آپ کی ایک کتاب بھی اسی نام سے ہے؟

جواب: داعی انسان۔ قرآن کا سب سے زیادہ فوکس دعوت پر ہے، اور قرآن کا مطلوب

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page