پیغمبرانہ ماڈل سے انحراف
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۸
پیغمبرانہ ماڈل سے انحراف
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں 570ء میں پیدا ہوئے۔ آپ پر پہلی وحی 610ء میں اتری۔ یہ قرآن کی سورہ نمبر 96 کی ابتدائی آیتیں تھیں۔ اس کے بعد دوسری وحی المدثر کی صورت میں اتری، جو مصحف کی موجودہ ترتیب میں سورہ نمبر 74 کی حیثیت سے شامل ہے۔
سورہ المدثر میں آپ کو آپ کا دعوتی مشن بتاتے ہوئے کہا گیا: ﴿قُمْ فَأَنْذِرْ﴾ (74:2)۔ یعنی تم لوگوں کو بتا دو کہ ان کا پیدا کرنے والا خدا ہے اور جلد ہی یوم الدین (Day of Judgement) آنے والا ہے، جب کہ سارے انسان حساب کے لیے خداوند ذوالجلال کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور اُن کے دنیوی ریکارڈ کے مطابق ، اُن کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ سورہ المدثر میں یہ دعوتی حکم دیتے ہوئے مزید یہ کہا گیا تھا: ﴿وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ﴾ (74:7)۔ یعنی تم پوری یکسوئی کے ساتھ اس دعوتی مشن میں لگ جاؤ اور تمام غیر دعوتی مسائل سے اپنے آپ کو پوری طرح دور رکھتے ہوئے دعوت الی اللہ کا یہ کام انجام دو۔
دعوتِ حق کا یہی ابدی اصول ہے یعنی دعوتی کام میں مکمل یکسوئی، ، اور غیر دعوتی چیزوں سے مکمل اعراض۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی اصول کا عملی نمونہ ہے۔ مثال کے طور پر مکہ کے تیرہ سالہ دور میں عرب کے سرداروں کی طرف سے آپ کو اقتدار کی پیش کش کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ: ﴿وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ بِهِ مِلْكاً مَّلَّكْنَاكَ عَلَيْنَا۔ یعنی اگر تم اقتدار چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنے اوپر بادشاہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔ آپ نے اس پیش کش کو نا منظور کرتے ہوئے فرمایا: ما جِئْتُ بِمَا جِئْتُكُمْ بِهِ أَطْلُبُ أَمْوَالَكُمْ، وَلَا الشَّرَفَ فِيكُمْ، وَلَا الْمُلْكَ عَلَيْكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ رَسُولًا، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ كِتَاباً، وَأَمَرَنِي أَنْ أَكُونَ لَكُمْ بَشِيرًا وَنَذِيرًا (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1 ، صفحہ 96-295) یعنی میں جو کچھ لے کر تمھارے پاس آیا ہوں، میں اس کو اس لیے نہیں لایا ہوں کہ میں تمھارامال طلب کروں، یا تمھارے درمیان فوقیت حاصل کروں، یا تمھارے اوپر بادشاہ بنوں (I seek not sovereignty over you). لیکن
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues