پیغمبرانہ ماڈل سے انحراف
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۹
اللہ نے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، میرے اوپر کتاب نازل کی ہے، اور مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمھارے لیے بشیر و نذیر بن جاؤں۔
دعوت (انذار و تبشیر ) کا کام اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنا زیادہ اہم ہے کہ داعیوں کے لیے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ ہر مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنی تمام توانائی صرف اس ایک کام میں لگائیں۔ اور قیامت تک نسل در نسل یہی کام انجام دیتے رہیں۔ پیغمبر نے اپنے زمانے میں اس اصول کے مطابق، اپنی دعوتی ذمے داری ادا کی اور آپ کے بعد آپ کی امت کو ہر دور میں اسی اصول کا اتباع کرتے ہوئے دعوتی کام انجام دینا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں اپنی امت کو واضح ہدایات دی ہیں۔ خاص طور پر آپ نے امت کو شدت کے ساتھ تلقین فرمائی کہ تم لوگ سیاسی نزاعات سے دور رہو۔ کیوں کہ سیاسی نزاعات میں الجھنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ دعوت الی اللہ کا کام رُک جائے گا۔ اس بارے میں کتب احادیث میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے روایتیں موجود ہیں، ان روایتوں کا خلاصہ اس حدیثِ رسول میں پایا جاتا ہے: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا اللهَ حَقَّكُمْ (صحيح البخاری، حديث نمبر (7052) ۔ یعنی ان کا حق ان کو ادا کرو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں کے حقوق بلا اختلاف ادا کرتے رہو، اور خدا کی طرف سے تم پر جو ذمے داری ڈالی گئی ہے، اُس کو پوری یکسوئی کے ساتھ انجام دیتے رہو، اور اپنے حقوق کے معاملے میں ٹکراؤ کے راستے پر جانے کے بجائے خدا سے دعا کرو۔ اس معاملے میں احادیث اتنی زیادہ واضح ہیں کہ علمائے امت نے اجتماعی طور پر، حکمرانوں سے ٹکراؤ (خروج) کو فعل حرام قرار دے دیا ہے۔
اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک اس اصول پر عمل جاری رہا۔ بعض انفرادی مثالوں کو چھوڑ کر برابر ایسا ہی ہوتا رہا کہ امت کی عظیم اکثریت نے اس اصول کا التزام کیا، تا کہ اسلام کا مثبت دعوتی عمل بلا توقف جاری رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues