Al-Risala · October 2019 · page 40

پیغمبرانہ ماڈل سے انحراف

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۰

خلافت راشدہ کے آخری زمانے میں بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اُس وقت اصحاب رسول بڑی تعداد میں موجود تھے، لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ اس ٹکراؤ سے اصحاب رسول تقریباً مکمل طور پر علاحدہ رہے۔ یہ جنگ عملاً دو قبیلوں کی جنگ تک محدود رہی، اصحاب رسول اُس میں شریک نہیں ہوئے۔

اس کے بعد بنو امیہ کا دور آیا۔ اُس زمانے میں سیاسی بگاڑ بڑے پیمانے پر پیدا ہو چکا تھا، لیکن صحابہ اور تابعین نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ سیاسی اصلاح کے نام پر بنو امیہ سے جنگ چھیڑ دیں۔ صحابہ اور تابعین کی پوری جماعت اس زمانے میں اُسی اصول پر قائم رہی جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا، یعنی سیاسی ٹکراؤ سے اعراض اور تعلیم اور دعوت کے میدان میں اسلام کی خدمت انجام دیتے رہنا۔

اس کے بعد مسلم تاریخ کا وہ دور آیا جس کو بنو عباس کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں بھی مبینہ طور پر حکم رانوں میں ہر قسم کے سیاسی بگاڑ موجود تھے۔ مثلاً انھوں نے اسلامی خلافت کو خاندانی ملوکیت میں تبدیل کر دیا، وغیرہ۔ اُس زمانے میں علمائے امت کی بڑی تعداد موجود تھی، جن کو عام طور پر محدثین اور فقہا کہا جاتا ہے۔ محدثین اُس زمانے میں خواص امت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر سیاسی نزاعات سے دور رکھا۔ انھوں نے اپنی ساری طاقت حدیث کی جمع و تدوین میں لگادی۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج حدیث کا ذخیرہ محفوظ حالت میں ہمارے پاس موجود ہے۔

بنو عباس کے اس عہد میں علما کا دوسرا گروہ پیدا ہوا، جس کو عام طور پر فقہائے اسلام کا گروہ کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، فقہا کے زمانے میں ہر قسم کے سیاسی بگاڑ پائے جارہے تھے، لیکن ان فقہا نے سیاسی بگاڑ میں اصلاح کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ مثلاً انھوں نے یہ کوشش نہیں کی کہ ملوکیت کو ختم کر کے دوبارہ خلافت کا نظام قائم کریں۔ فقہا کی جماعت نے یا تو اپنے زمانے کے حکم رانوں سے موافقت کا طریقہ اختیار کیا، یا اُن سے الگ رہ کر وہ یکسوئی کے ساتھ اسلام کی خدمت کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page