Al-Risala · October 2019 · page 41

پیغمبرانہ ماڈل سے انحراف

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۱

کام میں لگے رہے۔ اسی پالیسی کا یہ نتیجہ تھا کہ فقہ کی تدوین کا عظیم کام انجام پایا۔ اس کے بعد وہ دور آتا ہے جس کو صوفیا کا دور کہا جاتا ہے۔ یہ دور بنو عباس کے آخری زمانے میں شروع ہوا، اور مغل کے خاتمے تک پوری طاقت کے ساتھ جاری رہا۔ اس زمانے میں بھی وہ حالات مسلسل طور پر جاری رہے، جن کو سیاسی بگاڑ کہا جاتا ہے۔ لیکن صوفیا نے کبھی اپنے آپ کو سیاسی معاملات یا سیاسی نزاعات میں نہیں الجھایا۔ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ دعوت اور اصلاح کے غیر سیاسی کام میں مصروف رہے۔ اس کے نتیجے میں ایک طرف یہ ہوا کہ امت کی اخلاقی تربیت ہوتی رہی اور دوسری طرف، اسلام کی دعوتی توسیع عالمی سطح پر جاری رہی۔

یہ عمل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک جاری رہا۔ یہ ایک عظیم ربانی حکمت تھی۔ یہ حکمت اس بات کی ضامن بن گئی کہ سیاسی بگاڑ، یا دنیوی مسائل کے با وجود دعوت الی اللہ کا بنیادی کام بلا توقف تاریخ میں جاری رہے۔

یہ دعوتی تسلسل پہلی بار انیسویں صدی میں ٹوٹتا ہے، جب کہ مغربی استعمار کا وہ دور آیا جس کو نو آبادیاتی نظام (colonialism) کہا جاتا ہے۔ اس دور سے پہلے مسلم تاریخ کا وہ دور چلا آرہا تھا جس کو ایک اعتبار سے سیاسی ایمپائر کا دور کہا جاسکتا ہے۔ مغربی نو آبادیات کے دور میں مسلمانوں کا یہ سیاسی ایمپائر عملاً ٹوٹ گیا۔ یہ ایک قسم کے سیاسی بحران (political crisis) کا معاملہ تھا، اُس وقت اُس رہنما یا نہ صلاحیت کی ضرورت تھی، جس کو کرائس مینجمنٹ (crisis management) کہا جاتا ہے۔ اگر چہ اُس وقت عالمی سطح پر مسلمانوں کے اندر بڑے بڑے دماغ موجود تھے، لیکن یہ لوگ اس بحران میں مطلوب رہ نمائی کا ثبوت نہ دے سکے ۔ وہ اس کے مقابلے میں مثبت عمل کے بجائے منفی رد عمل کا شکار ہو کر رہ گئے۔

اس معاملے میں غالباً پہلا نمایاں نام سید جمال الدین افغانی (وفات 1897ء) کا ہے۔ اُن کے زمانے میں ترکی اور ایران اور ہندستان میںابھی تک مسلم سلطنتیں موجود تھیں ۔ ان سلطنتوں نے سید جمال الدین افغانی کے ساتھ غیر معمولی تعاون کا معاملہ کیا۔ لیکن سید جمال الدین افغانی پر سیاسی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page