Al-Risala · October 2019 · page 42

پیغمبرانہ ماڈل سے انحراف

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۲

طرزِ فکر اتنا غالب تھا کہ وہ مسلم حکمرانوں کے تعاون اور امت کے درمیان اپنی مقبولیت کا مثبت استعمال نہ کر سکے۔ وہ آخر وقت تک منفی سیاست میں مبتلا رہے، یہاں کہ اس راہ میں اُن کا خاتمہ ہو گیا۔

اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد (1958-1888) ہندوستان کے ایک بڑے مسلم رہنما تھے۔ ان کو اپنے زمانے میں غیر معمولی مواقع ملے۔ وہ ان مواقع کو استعمال کر کے دعوت اور اصلاح کا کام بڑے پیمانے پر کر سکتے تھے، لیکن انھوں نے اپنی بہترین صلاحیت کو برٹش ایمپائر کے خلاف لڑنے میں ضائع کر دیا، اور اُن کے زمانے کے بہترین مواقع برباد ہو کر رہ گئے۔

اسی طرح عرب دنیا میں سید قُطب (1966-1906) کو غیر معمولی مواقع ملے، حتی کہ ان کے ہم عصر مصری حکمراں جمال عبدالناصر (1970-1918) نے انھیں یہ پیش کش کی کہ وہ تعلیم (education) کی وزارت کو لے لیں، اور قوم کو اسلامی اصولوں پر ایجوکیٹ کرنے کا بنیادی کام کریں۔ لیکن دوبارہ یہی ہوا کہ سید قطب اپنے سیاسی ذہن کی بنا پر تعلیم کی اہمیت کو نہ سمجھ سکے اور نزاعی سیاست میں الجھ گئے۔ وہ اسی بے فائدہ کام میں مشغول رہے، یہاں تک کہ اُن کا آخری وقت آ گیا۔ یہی معاملہ سید ابوالاعلیٰ مودودی (1979-1903) کے ساتھ پیش آیا۔ انھوں نے اسلام کی سیاسی تشریح کی تھی ، اس لیے اُن کو کرنے کا سب سے بڑا کام یہ نظر آتا تھا کہ ’’سیاسی انقلاب‘‘ برپا کرنے کی کوشش کی جائے۔ صدر محمد ایوب خاں (1974-1907) پاکستان میں اُن کے ہم عصر حکمراں تھے۔ انھوں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کو یہ پیش کش کی کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر ایک نیشنل یونیورسٹی بنائی جائے۔ وہ اس کا مکمل چارج سید ابوالاعلیٰ مودودی کو دینے کے لیے تیار تھے۔ صدر محمد ایوب خاں کا ماننا یہ تھا کہ پاکستان کے نام سے ایک ملک بن گیا۔ اب ضرورت یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اسلامی اصولوں پر تعلیم و تربیت دے کر انھیں مستقبل کی تعمیر کے لیے تیار کیا جائے۔ لیکن سید ابوالاعلیٰ مودودی کو اس کام کی اہمیت سمجھ میں نہ آئی۔ وہ صدر محمد ایوب خاں کو حکمرانی کے مقام سے ہٹانے کی مہم میں لگ گئے۔ اس کا نتیجہ صرف ناکامی کی صورت میں نکلا۔ سید ابوالاعلیٰ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page