عقیدہ اور بین اقوامی معاملات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۲
حال کی نسبت سے اس اصول کے انطباق کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں ہے کہ حج کے لیے مکہ آنے والے اونٹ پر سفر کر کے آئیں گے (الحج، 27: 22)۔ مگر آج تمام مسلمان، علماء اور غیر علماء، ہوائی جہاز سے سفر کر کے مکہ پہنچتے ہیں۔ اسی طرح قرآن میں مسلم حکومت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ قوت کے لیے خیل (cavalry) فراہم کرو (الانفال، 8:60)۔ لیکن آج مسلم حکومتیں جدید اسلحہ فراہم کرتی ہیں، وغیرہ۔ موجودہ زمانہ مکمل طور پر ایک بدلا ہوا زمانہ ہے۔ ضرورت ہے کہ عقیدہ کے سوا بقیہ معاملات میں بھی حسب ضرورت اس کو اختیار کیا جائے۔ اسلامی احکام کے دو حصے ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق الدین (الشوری، 13: 42) سے ہے۔ اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کا تعلق شریعت (المائدہ، 5:48) سے ہے۔ الدین کا حصہ ابدی ہے۔ اس میں کسی تبدیلی کی اجازت نہیں۔ لیکن شریعت کا حصہ ابدی نہیں، وہ حالات کے مطابق بدلا جاسکتا ہے۔ یہ تبدیلی اجتہاد کی شرطوں کے مطابق کی جائے گی۔
☆☆☆☆☆
دنیا میں ہر آدمی کے لیے کوئی نہ کوئی نقصان مقدر ہے۔ دانش مند وہ ہے، جو نقصان کو خدا کا فیصلہ سمجھ کر اس پر راضی ہو جائے۔
پرامن جدوجہد کا نام جدوجہد ہے، متشددانہ جدوجہد سرے سے کوئی جدوجہد ہی نہیں۔
دشمن سے مقابلہ کرنے کی سب سے زیادہ کامیاب تدبیر یہ ہے کہ دشمن کو اپنا دوست بنا لیا جائے۔
دوسروں کو دوست بنانے کی سب سے زیادہ آسان تدبیر یہ ہے کہ آپ دوسروں سے نفرت کرنا چھوڑ دیجیے۔
آپ دوسروں کی ضرورت بن جائیں، تو آپ کو دوسروں سے شکایت نہ ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues