اسلوبِ کلام
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۳
اسلوبِ کلام
شاعری کی بنیاد تخیل پر ہے۔ تخیل میں کوئی خارجی چیز آدمی کی سوچ کی حد بندی کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ اسی لیے شاعر خیالی پرواز میں جو چاہتا ہے کہتا چلا جاتا ہے (أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ) الشعراء، 226۔
اس کے برعکس سائنس کی بنیاد فطرت پر ہے۔ فطرت (nature) ایک متعین حقیقت کا نام ہے۔ فطرت کی دنیا میں تمام واقعات انتہائی معلوم اور متعین اصولوں کی بنیاد پر ظہور میں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس داں کی زبان شاعر کی زبان سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ شاعر کو لفظوں کے انتخاب میں احتیاط کی ضرورت نہیں۔ اس کی فکری اُڑان اس سے کچھ بھی کہلو آسکتی ہے۔ مگر سائنس داں انتہائی محتاط زبان استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ وہ سختی کے ساتھ اس کا اہتمام کرتا ہے کہ اس کی زبان میں فنی صحت اور ریاضیاتی قطعیّت موجود ہو۔ جدید سائنس کا ظہور یورپ میں ہوا، اور وہیں اس کی ترقی ہوئی ۔ پچھلے کئی سو سال کا زمانہ ایسا ہے جب کہ مغربی دنیا میں سائنس کو سب سے زیادہ غلبہ حاصل رہا ہے۔ مغرب کی جدید تہذیب مکمل طور پر سائنس کے زیر اثر بنی ہے۔ اسی کے اثر سے مغرب کی زبانوں میں محتاط اسلوب اور حقیقت نگاری کا انداز پیدا ہو گیا ہے۔
سائنس داں جس شعبۂ علم میں کام کرتا ہے، اس کے عین تقاضے کے طور پر وہ ایسا کرتا ہے کہ اپنے خیالات کو محتاط زبان (guarded language) میں ظاہر کرتا ہے۔ جب مغربی انسان کے نزدیک سائنس کی اہمیت بڑھی، تو اسی کے ساتھ قدرتی طور پر یہ ہوا کہ زبان میں وہی طرزِ پسند کیا جانے لگا جو سائنس دانوں کا طرز تھا۔ اس طرح وہ زبان وجود میں آئی جس کو ہم نے محتاط زبان کا نام دیا ہے۔
اس کی مثال یہ ہے کہ ریمزے میکڈونلڈ (1937-1866) ایک برطانی لیڈر تھے، جو بعد کو وہاں کے وزیر اعظم بنے۔ ان کو عوامی تقریروں کا خاص ملکہ تھا، جس میں معنی کم اور الفاظ زیادہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues