Al-Risala · December 2019 · page 39

ادبی انقلاب

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۹

سے خالی ہو۔ 1664 میں رائل سوسائٹی نے بالقصد ایک کمیٹی قائم کی جس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزی زبان کے اسٹائل میں اصلاح کی کوشش کرے۔

اس وقت کے یورپ میں عوامی لہر پوری طرح شعر، استعارہ اور شاعرانہ نثر (poetic prose) کے خلاف تھی۔ فلاسفہ عام طور پر اس طرح کے بیان کو سچائی (truth) میں ایک رکاوٹ سمجھتے تھے۔ ہابس (1679-1588) کے نزدیک وہ سیدھے فکر (straight thinking) میں خلل پیدا کرنے والا تھا۔ روسو (1778-1712) نے کہا تھا کہ ڈیکارٹ (1650-1596) کے فلسفہ نے شاعری کو قتل کر دیا ہے۔ جان لاک (1704-1632) نے صاف طور پر کہا کہ شاعری خوبصورت تصویروں کا مجموعہ ہے، مگر وہ بنیادی طور پر گمراہ کن ہے۔ ملٹن آخری شاعر تھا جو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، اور سرٹامس براؤن (1682-1606) شاید آخری شخص تھا، جس نے اس طرز کی نثر لکھی۔ ٹامس براؤن ایک تعلیم یافتہ شخص تھا۔ مگر وہ قدیم طرز کی زبان استعمال کرتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خواہش کے باوجود رائل سوسائٹی کا فیلو نہ بنایا جا سکا۔ اس وقت کے اہل فکر ایک ایسی نثر وجود میں لانا چاہتے تھے جو فلسفہِ فطرت کے نئے میکانکی تصور سے ہم آہنگ ہو :

They were interested in the development of prose style in accordance with new mechanical concepts of natural philosophy. (p. 117)

نثر میں سادگی پیدا کرنے کی تحریک کا سہرا خاص طور پر جان ڈرائیڈن (1700-1631) کے سر ہے۔ اس نے مسلسل اس کی تبلیغ کی، اور خود سادہ نثر استعمال کی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جدید انگریزی در حقیقت ڈرائیڈن کی زبان ہے۔

اٹھارویں صدی کو ’’ایج آف ریزن‘‘ کہا جاتا ہے۔ نیوٹن کے بعد محسوس کیا گیا کہ جس طرح عالم افلاک میں نظم و ضبط ہے، اسی طرح لٹریچر کو بھی نظم و ضبط کا پابند ہونا چاہیے۔ ایڈمنڈ والر (1606-1687) اور ڈرائیڈن نے شاعرانہ زبان کے ذریعہ تاثیر پیدا کرنے کے بجائے یہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page