Al-Risala · December 2019 · page 40

ادبی انقلاب

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۰

کوشش کی کہ متوازن خیالات(well-balanced thoughts)کو معتدل اور مناسب زبان میں ادا کر کے یہ فائدہ حاصل کیا جائے۔

ایڈیسن(1719-1672) نے اپنی کتاب(The Spectator) میں انھیں خیالات کی وکالت کی۔ اس ادبی تحریک (literary move) نے ارسطو کو دوبارہ اہمیت کا مقام دے دیا۔ پوپ نے فطرت (nature) کی پیروی کی تلقین کی، انگریزی شاعر ورڈسورتھ ( William Wordsworth) کی بیان کردہ فطرت کی نہیں، بلکہ وہ فطرت جس کو نیوٹن نے دریافت کیا تھا۔ ولیم بلیک(1827-1757) نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ وہ شاعر (poet) کو اسی قسم کی ایک مخلوق سمجھتا تھا، جیسے قدیم اسرائیلی پیغمبر۔ اسی طرح ورڈسورتھ(1850-1770) نے بھی اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس نے کہا کہ حقیقت کی کچھ اور قسمیں ہیں، جو ان مادی صداقتوں کے علاوہ ہیں، جن کو سائنس داں بیان کرتے ہیں۔ یہ دوسری قسم کی صداقتیں وہ ہیں جن تک صرف شاعر کی پہنچ ہو سکتی ہے۔

رومانوي تحریک (Romantic Movement) ایک معنی میں نیوٹنی قطعیت (Newtonian Certainty) کے خلاف شاعرانہ ردِ عمل تھی، اور ہابس کے خلاف جس نے کہا تھا کہ انسان بنیادی طور پر ایک مشین ہے۔ رومانیت(Romanticism) ایک قسم کی فراریت (escapism) تھی۔ رومانیت شاعری کے اندر 1798 سے جنگ عظیم 18-1914 تک رہی۔ اب یورپ میں تین سو سالہ دور کا ردِ عمل ہورہا ہے۔ صنعتی دور کی خشکی سے اکتا کر وہ سائنس کے ساتھ آرٹ کی اہمیت کو بھی تسلیم کر رہا ہے۔ سترھویں صدی میں سائنس نے زبردست ترقی کی تھی۔ آرٹ نے بھی قدیم زمانہ میں بہت بلند مقام حاصل کیا تھا۔ ہوسکتا ہے مستقبل میں وہ دوبارہ اپنے مقام پر لوٹ آئے۔

(جان فریڈرک ویسٹ(John Frederick West) کی کتاب دی گریٹ انٹلکچول ریولیوشن کے ایک باب استعارہ کی موت [The Death of Metaphor] کا ترجمہ)

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page