Al-Risala · December 2019 · page 41

ادبی انقلاب

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۱

ایک خط

برادرم مولانا سید اقبال احمد عمری، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ یہ خط میں آپ کو 11 ستمبر 2019 کی شام کو لکھ رہا ہوں۔ میں کئی مہینے سے بیماری کے دور سے گزر رہا تھا۔ آخر کار ہمارے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ مجھ کو دلی کے سب سے اچھے اسپتال میں لے جائیں۔ میں اس کے لیے راضی نہیں تھا۔ کیوں کہ نوجوانی کی عمر سے میں یہ سنتا تھا کہ اسپتال انسان کے لیے کوئی اچھی جگہ نہیں ہے۔ مثلاً مشہور اردو شاعر اکبر الہ آبادی نے جدید دور کے بارے میں طنزیہ انداز میں لکھا تھا:

ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا کئی عمر ہو ٹلوں میں مرے اسپتال جا کر انڈیا کے ایک مشہور عالم دین کے قریبی لوگ بتاتے ہیں کہ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ اللہ سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ وہ اسپتال کی زندگی سے بچائے۔ اسی طرح مجھے انڈیا کے دو بزرگوں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ علاج کے لیے امریکا گئے۔ جب وہ روانہ ہونے لگے، تو ان کے معتقدین نے ان کو مشورہ دیا کہ حضرت امریکا میں یہودی ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ آپ یہودی ڈاکٹروں سے ہرگز علاج مت کیجیے گا۔ کیوں کہ یہودی اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہوتے ہیں۔

یہ بات مضحکہ خیز حد تک غیر واقعی ہے۔ موجودہ زمانہ پر وفیشنلزم کا زمانہ ہے۔ مسلمانوں کے در درمیان اس قسم کا ماحول اس بات کے لیے رکاوٹ بن گیا ہے کہ وہ جدید ترقیوں سے فائدہ اٹھائیں۔ وہ اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق جدید ترقیوں سے الرجک ہو گئے ہیں۔ ان حضرات کو یہ معلوم ہی نہیں کہ موجودہ زمانہ پر وفیشنلزم (professionalism) کا زمانہ ہے۔ اب یہودی ڈاکٹر یہود کی حیثیت سے علاج نہیں کرتے، اب کرسچن ڈاکٹر کرسچن کی حیثیت سے کسی انسان کا طبی معائنہ نہیں کرتا، بلکہ خالص پر وفیشنل انداز میں وہ اس کام کو انجام دیتا ہے۔ آج کا ایک ڈاکٹر جو کام کرتا ہے، وہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں کرتا، وہ انتہائی پیشہ ورانہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page