ادبی انقلاب
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۲
انداز میں اس کو انجام دیتا ہے۔ جب وہ اپنا کام انجام دیتا ہے، تو اس کے ذہن میں صرف پروفیشنل تقاضے موجود ہوتے ہیں، کسی بھی غیر پروفیشنل تقاضے سے ان کا ذہن مکمل طور پر خالی ہوتا ہے۔ جدید ترقی کیا ہے۔ وہ دراصل خدا کے پیدا کیے ہوئے امکانات کو دریافت کر کے ان کو استعمال کرنا ہے۔ یہ ترقیاں کوئی غیر اسلامی ترقیاں نہیں ہیں، بلکہ وہ خود خدا کی تخلیق کا حصہ ہیں۔ مسلمانوں نے اس حقیقت کو سمجھنے میں بہت زیادہ دیر کی ، اب انھیں بلا تاخیر اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے، تا کہ وہ مزید نقصان سے بچ جائیں۔
یہ پروفیشنلزم ایک نیا ظاہر ہ ہے جو موجودہ زمانے میں پیدا ہوا ہے، مگر امت کے لوگ خاص طور پر علما اس سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ اسی لیے وہ دورِ جدید کے بارے میں ایسی رائے قائم کرتے ہیں، جو مضحکہ خیز حد تک غیر واقعی ہوتی ہے۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی حقیقت پسند بنے، وہ کسی انسان کے بارے میں تجربے (experience) کی بنیاد پر رائے قائم کرے، نہ کہ عقیدے کی بنیاد پر۔ یہ معاملہ خالص غیر مذہبی (secular) معاملہ ہے، اس کا مذہبی عقیدے سے کوئی تعلق نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دورِ جدید کی اس حقیقت کو دریافت کرے، تا کہ وہ غلط فہمی کی دنیا میں جینے سے بچ جائے۔
☆☆☆☆☆☆
زندگی میں بار بار فیصلہ لینا پڑتا ہے، نئے حالات میں جو لوگ نیا فیصلہ نہ لے سکیں، وہ اس دنیا میں نا کام ہو کر رہ جائیں گے۔
دعوت دوسروں کے حق میں اپنی خیر خواہی کا اظہار ہے، نہ کہ دوسروں کے اوپر اپنی برتری کا اظہار۔ دعوت در اصل مدعو سے محبت کا ایک اظہار ہے۔ چوں کہ لوگوں کے سینوں میں دوسرے کے لیے محبت نہیں، اس لیے لوگوں کے سینوں میں دعوت کی تڑپ بھی نہیں۔
جو انسان سے محبت کرتا ہے، وہ خدا کا محبوب بنتا ہے، اور جو شخص خدا کا محبوب بنتا ہے، اسی کو آخرت میں جنت میں داخلہ ملے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues