ادبی انقلاب
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۳
سوال و جواب سوال ایک قاری ال رسال لکھتے ہیں کہ کچھ دنوں پہلے مہاراشٹ کے ایک مقام پر ان (10) کا جانا ہوا تھا۔
ایک قاری الرسالة لکھتے ہیں کہ کچھ دنوں پہلے مہاراشٹر کے ایک مقام پر ان کا جانا ہوا تھا۔ وہاں ناروے کے کچھ عیسائی مشنری لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے یہ دو سوال کیے: (1) جنت (paradise) میں داخلے کا معیار(criterion) کیا ہے۔ (2) آپ کے پاس روحانیت (spirituality) کی تعریف کیا ہے۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو) جواب (1) جنت اعلیٰ درجے کا پرامن (peaceful) معاشرہ ہے۔ جنت میں اسی کو داخلہ ملے گا، جو اپنے ہمسایہ لوگوں (neighbours) کے ساتھ کامل معنی میں پرامن انداز میں رہ سکیں۔ اس کا ہر عمل قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل ہو۔ جو لوگ اپنے آپ کو دنیا کی زندگی میں اس انداز میں تیار کریں، وہ آخرت میں جنت میں داخلے کا ریوارڈ پائیں گے۔ (2) روحانیت کسی پراسرار صفت کا نام نہیں ہے۔ روحانیت کامل طور پر مثبت انداز میں ذہنی ارتقا کا نام ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ روحانیت مبنی بر قلب ڈیولپمنٹ کا نام ہے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ روحانیت مبنی بر ذہن ارتقا کا نام ہے۔
سوال
میں پاک کے عصر سے باہر آگیا ہوں ۔ یہ ہرمیں رنگ ہیں۔ میں میں ایک عرصے سے آپ کے مضامین اردو اور انگریزی میں پڑھتا ہوں، اور انٹرنیٹ پر آپ کی تقریریں سنتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ الہام کی حقیقت کیا ہے؟ یہ وحی سے کس طرح جدا ہے؟ (اظہر مبارک، بھاگل پور، بہار)
جواب
اس سلسلہ میں غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح جو کہ قسم ، مس ، ملی ، مبتلا، اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح وحی کی دو قسمیں ہیں ــــ وحی متلو، اور وحی غیر متلو۔ اسی طرح الہام کی بھی دو قسمیں ہیں ــــ اجتہاد اور انسپریشن (inspiration) ہے ۔ یہ دو میں یہ نہ کہوں کہ اس کی روح ان میں ہے | اب ہمارا پرس ہے، یہ رز
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues