ادبی انقلاب
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۴
قسم کے معاملات پیغمبر کے ساتھ بھی ہوتے ہیں، اور غیر پیغمبر کے ساتھ بھی۔ اس مکی مثالیں غور کرنے سے سمجھ میں آتی ہیں۔ مثلاً کی دور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نہایت غیر معمولی قسم کی حکیمانہ تدبیر اختیار کی، جس کو ڈی لنکنگ (delinking) کہا جاسکتا ہے، یعنی مکہ کے بت پرست زائرین سے ٹکراؤ نہ کرنا، بلکہ ان کو دعوت کے آڈینس (audience) کے طور پر استعمال کرنا۔ یہ ایک غیر معمولی تدبیر تھی، اور اتنی اعلیٰ تدبیر ربانی الہام کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ الہام کی یہ قسم ایسے اہل ایمان کو نصیب ہوتی ہے، جو ری ایکشن کی نفسیات سے اپنے آپ کو کامل طور پر بچائیں۔ بدقسمتی سے مسلم علما نے اس اعلیٰ حکمت کو نہیں سمجھا، اس لیے وہ ایسے الہام کے وعایہ (container) بھی نہیں بنے۔
ہمارے علما کے لیے اس سے مشابہ حالات پیدا ہوئے، لیکن ہمارے علما نے حدیث کو حکمت (wisdom) کے طور پر نہیں لیا، بلکہ فقہی مسائل کے مآخذ کے طور پر لیا۔ اس لیے ان کا معاملہ یہ ہوا کہ وہ نبوی حکمت کو سمجھنے سے قاصر رہے، وہ خود ساختہ طور پر مسائل میں ترجیحات تلاش کرنے میں الجھ کر رہ گئے۔ جس چیز کو علما ترجیحی قول کہتے ہیں، وہ صرف حکمت نبوی کی دریافت میں محرومی کا نام ہوتا ہے۔ وحی سے مراد ہے لفظی انسپریشن، جو فرشتوں کے ذریعہ انبیا کو ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں الہام سے مراد ہے، اجتہادی انسپریشن۔
سوال
ایک قاری الرسالہ لکھتے ہیں: سورہ یوسف احسن القصص ہے۔ لیکن دوسرے انبیاء کے مقابلے میں اس میں انذار و تبشیر کا کوئی نمایاں پہلو نظر نہیں آتا۔ حالاں کہ انبیاء کرام کا اصل مقصد یہی ہے۔ وضاحت مطلوب ہے۔ (سید فیض احمد قادری، کوئمبٹور، تامل ناڈو)
جواب
حضرت یوسف کا قصہ جو قرآن میں بیان ہوا ہے، وہ ایک مخصوص پہلو سے بیان ہوا ہے۔ اس میں انذار و تبشیر کا معاملہ شامل نہیں۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کو ایک خاص رہنمائی دینا مطلوب
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues