ادبی انقلاب
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۵
تھا۔ غالباً اسی بنا پر یہ ہوا کہ حضرت یوسف ، جو کہ مصر سے باہر ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے، ان کو وہاں سے مصر میں لایا گیا، جہاں ایک متمدن حکومت قائم تھی۔ کیوں کہ یہ مثال مصر جیسے متمدن مقام میں قائم ہو سکتی تھی۔ تاکہ ایک مثال کی صورت میں ایک سنت رسول قائم ہو، وہ یہ کہ اس طرح کی صورت حال میں اہل ایمان کو کیا کرنا چاہیے، یعنی جب داعی ایک ایسے مقام پر ہو، جہاں ایک قائم شدہ حکومت موجود ہو، تو وہاں طریق کار (method) کیا ہونا چاہیے۔ وہ طریقہ ایک لفظ میں پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) پر مبنی ہونا چاہیے۔ یہ پریکٹیکل وزڈم کیا ہے، اس کو حضرت یوسف کی مثال کے ذریعے اس سورت میں بیان کیا گیا ہے۔
سورہ یوسف میں احسن القصص کا لفظ اپنے کامل معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ طریق کار کے معنی میں ہے، یعنی حضرت یوسف نے اپنے زمانے میں دعوت کا جو طریقہ (method) اختیار کیا، وہ بہترین طریقہ تھا۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہترین طریقہ سے متعین طور پر مراد غیر نزاعی طریقہ (non-confrontational method) ہے۔
حضرت یوسف کا اختیار کردہ غیر نزاعی طریقہ کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ حضرت یوسف نے بادشاہ سے تخت اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ صرف یہ کیا کہ مصر کے خزائن ارض (زرعی معاملہ agricultural land) کا انتظام حضرت یوسف کے حوالے کر دیا جائے۔ وہ انتظام کیا تھا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یوسف نے کہا کہ تم سات سال تک برابر کھیتی کرو گے ۔ پس جو فصل تم کاٹو، اس کو اس کی بالیوں میں چھوڑ دو مگر تھوڑا سا جو تم کھاؤ۔ اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے ۔ اس زمانہ میں وہ غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اس وقت کے لیے جمع کرو گے، بجز تھوڑا سا جو تم محفوظ کر لو گے۔ پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر میٹھ برسے گا۔ اور وہ اس میں رس نچوڑیں گے ۔ (49-12:47)
بادشاہ مصر کے ساتھ حضرت یوسف کا معاملہ کیا تھا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اور بادشاہ نے کہا، اس کو میرے پاس لاؤ۔ میں اس کو خاص اپنے لیے رکھوں گا۔ پھر جب
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues