ادبی انقلاب
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۶
یوسف نے اس سے بات کی تو بادشاہ نے کہا: ائْتُونِي بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي فَلَمَّا كَلَّمَهُ قَالَ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ- قَالَ اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ (12:54-55)۔ یعنی اس کو میرے پاس لاؤ۔ میں اس کو خاص اپنے لیے رکھوں گا۔ پھر جب یوسف نے اس سے بات کی تو بادشاہ نے کہا: آج سے تم ہمارے یہاں معزز اور معتمد ہوئے۔ یوسف نے کہا : مجھ کو ملک کے خزانوں پر مقرر کر دو۔ میں نگہبان ہوں اور جاننے والا ہوں۔ بائبل (پیدائش، 41:40) میں اس طریقے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ سو تُو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا:
You shall be in charge of my house, and all my people are to obey your commands. Only with regard to the throne will I be greater than you. (Genesis 41:40)
سوال
مجھے نہیں معلوم میں کہاں سے شروع کروں۔ میں جب سولہ سال کی تھی، تو میں نے اپنے اکیس سالہ بھائی کو کھو دیا، اس کے فوراً بعد میرے والدین فوت ہوگئے۔ شادی کے بعد میرے دوبھائی (brothers in law) اپنے پیچھے دو لڑکیوں کو چھوڑ کر انتقال کرگئے۔ ایسی کٹھن صورت حال میں میں کیا کروں۔ کیا آپ مجھے کوئی دعا پڑھنے کی نصیحت کریں گے ۔ (مز ثنا خان، پاکستان) جواب آپ کو جو صورت حال پیش آئی ہے، وہ آپ کے لیے ایک نعمت ہے۔ دنیا کے سہارے کا رہنا یا نہ رہنا، دونوں اللہ کے فیصلے ہیں۔ جب آپ دیکھیں کہ دنیا کے سہارے آپ سے ٹوٹ رہے ہیں، تو اس کو پازیٹیوونس میں لیں۔ اس کو یہ سمجھ لیجیے کہ یہ اللہ رب العالمین کا آپ کے لیے منصوبہ ہے کہ آپ رب العالمین سے جڑیں، زیادہ سے زیادہ آپ اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔ آپ کے اندر زیادہ سے زیادہ اسپرچول ڈیولپمنٹ ہو۔ یہ سب باتیں شکر کی باتیں ہیں، نہ کہ شکایت کی باتیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues