Al-Risala · December 2019 · page 47

ادبی انقلاب

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۷

خبر نامہ اسلامی مرکز - 270

• نیشنل انوائرمنٹل انجینئرنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ (NEERI Nagpur) میں دعوہی تجربہ : ایم ایم ربانی جونئرکالج کامٹی سے طلبہ کو مرکزی حکومت کے ادارہ National Environmental Engineering Research Institute میں 15 جولائی 2019 کو مدعو کیا گیا تھا۔ ہم نے طے کیا کہ اس ٹرپ کو اپنے لیے دعوت ٹرپ بنایا جائے۔ ملک کے نامور سائنس داں ڈاکٹر این کے سنگھ اس پروگرام کے خاص اسپیکر تھے، اس کے علاوہ اور بھی کئی ماہر سائنس داں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہونے والے ہیں۔ جب ہم لوگوں نے پروگرام انتظامیہ سے اپنے پیس اور اسپر پچول مشن کا تذکرہ کیا اور تمام لوگوں کو ترجمہ قرآن اور اسپر پچول لٹریچر دینے کا اپنا ارادہ ظاہر کیا، تو منتظمین بہت خوش ہوئے، اور یہاں تک معاونت کی کہ مجھے دعوت دی کہ آپ اپنے مشن کا تعارف اسٹیج پر آ کر کرائیں۔ یہ ہمارے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ یقینی طور پر یہ صرف اللہ رب العالمین کی مدد تھی۔ میں نے مختصر اسی پی ایس مشن کا تعارف اور مقصد پیش کیا، اور ڈائس پر موجود سبھی شخصیات کو انگلش قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر پیش کیا۔ خاص طور سے ڈاکٹر این کے سنگھ کو انگریزی ترجمہ قرآن اور گاڈ آرائز (God Arises) دیا گیا۔ انہوں نے بہت ہی خوشی سے قبول کیا۔ دیگر افراد میں ڈاکٹر آپادھیائے، ڈاکٹر پروہت (Dr Purohit) ڈاکٹر کمبھارے (Dr Kumbhare) وغیرہ، سب کو انگلش ترجمہ قرآن اور دی ایج آف پیس (The Age of Peace) کے ساتھ دیگر دعوتی کتابیں پیش کی گئیں۔ اسٹیج سے نیچے آنے کے بعد سامعین میں سے کئی افراد نے ہماری ٹیم سے رجوع کیا، اور اپنے لیے بھی انگلش، ہندی، اور مراٹھی میں قرآن کی درخواست کی، جو کہ ہم نے انہیں دے دیا۔ دو تجربات ایسے پیش آئے، جن سے میں تھرلڈ (thrilled) ہوں۔ ایک، اس پروگرام کی شوٹنگ کرنے والے کیمرہ مین مسٹر انِل نے میرے پاس آکر کہا: سر، کیا یہ کتابیں مجھے بھی مل سکتی ہیں، اور جب میں نے انہیں مراٹھی قرآن پیش کیا تو انہوں نے بہت ہی ادب سے ترجمہ قرآن کو اپنے سر، پر رکھ لیا۔ اس وقت کے تاثرات بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ اس پروگرام کا ایک دوسرا تجربہ یہ ہے کہ سامعین میں ایک ڈاکٹر ٹھاکرے صاحب ملے، جنھوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک ہمارا انتظار کیا، اور ملنے پر کہنے لگے میں نے اپنی تمام سروس امریکہ اور افریقی ممالک میں کی ہے، اور اب میں شانتی کے پرچار میں لگا ہوا ہوں، میرے اس مشن کے ساتھ ناگپور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر جناب پٹھان صاحب جڑے ہیں، جو کہ ابھی پونا میں مقیم ہو گئے ہیں۔ میں ان سے آپ کی بات کروا دیتا ہوں، آپ ان سے مل کر اس کام کو آگے بڑھائیے۔ پھر اسی وقت انہوں نے بات بھی کروا دی، اور اپنا مقصد بھی بتا دیا۔ پٹھان صاحب نے کہا آپ پونا آ کر مجھ سے ملے، کیوں کہ میں نے مولانا صاحب کو پڑھا ہے، اور ان سے کامل اتفاق رکھتا ہوں۔ (ساجد احمد خان، ناگپور- کامپٹی) • ڈاکٹر محمد اسلم خان (سی پی ایس سہارن پور چیپٹر) بھائی چارے کے انداز میں زندگی گزارتے ہیں، اور ہر ایک سے وہ اپنائیت کے انداز میں بھید بھاؤ کے بغیر ملتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ ہر جگہ آسانی کے ساتھ دعوتی کام کر لیتے ہیں۔ مثلاً 27 اگست 2019 کو اتراکھنڈ کے چیف منسٹر جناب ترویندر سنگھ راوت نے ڈاکٹر اسلم خان کو خاص اعزاز

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page