Al-Risala · February 2019 · page 37

prima facie it stands rejected

الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۳۷

کہ رسول اللہ نے ہم لوگوں سے کہا کہ تم میرے بعد عنقریب ترجیح (preference) دیکھو گے، اور کچھ ایسے امور جن کو تم ناپسند کرو گے، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ، آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے کہا: ان کو ان کا حق ادا کرو، اور تم اپنا حق اللہ سے مانگو۔

ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ، إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 7054)۔ یعنی آپ نے کہا کہ جو اپنے امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، تو وہ اس پر صبر کرے، کیوں کہ جو جماعت سے ایک بالشت کے برابر بھی جدا ہوا، اور اسی حال میں وہ مر گیا، تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔

اس موضوع پر بعض علماء کا اختلاف نقل کیا گیا ہے۔ مگر اس قسم کا اختلاف بلاشبہ نا قابل اعتبار ہے۔ اس لیے کہ اس معاملے میں رسول اللہ کی اتنی زیادہ کھلی کھلی ہدایات موجود ہیں۔ اس کے بعد کسی کو یہ حق باقی نہیں رہتا کہ وہ کوئی خود ساختہ عذر لے کر اس سے اختلاف کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا اختلاف بداہتہ ہی قابلِ رد ہے:

prima facie it stands rejected

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح احادیث کے مطابق ، اس مسئلے پر امت کا اجماع مسلسل طور پر جاری رہا۔ بیسویں صدی میں پہلی بار بعض مسلم رہنما مثلاً پاکستان کے سید ابو الاعلیٰ مودودی (وفات: 1979) اور مصر کے سید قطب (وفات: 1966) نے مبینہ طور پر اس معاملے میں اختلافی موقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان میں سید ابو الاعلیٰ مودودی نے منتخب صدر جنرل ایوب کے خلاف، اور مصر میں سید قطب نے سابق صدر جمال عبد الناصر کے خلاف سیاسی اپوزیشن کے تحریکیں چلائیں۔ اس قسم کا اپوزیشن بلا شبہ وہی چیز تھا، جس کو خروج یا بغاوت کہا جاتا ہے۔ ان حضرات کا یہ فعل بلا شبہ شرعی اعتبار سے غلط تھا۔ اس معاملے میں کوئی بھی عذر (excuse) ایک ایسے عمل کے لیے وجہ جواز نہیں بن سکتا، جس کو خود پیغمبر اسلام نے حرام کا درجہ دیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues

Printed page