Al-Risala · February 2019 · page 38

prima facie it stands rejected

الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۳۸

اس معاملے میں سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب، اور ان کے رفقا اور مویدین کو وہی کرنا چاہیے تھا، جو رسول اللہ کے بعد امت کے تمام اسلاف و اخلاف نے اختیار کیا۔ یعنی پولیٹیکل دائرے کو چھوڑ کر نان پولیٹیکل دائرے میں اپنی کوششوں کو صرف کرنا۔ مثلاً رسول اللہ کے بعد کے زمانے میں مسلم حکمرانوں کے اندر وہ تمام بگاڑ پوری طرح آچکا تھا، جس کے حوالے سے پاکستان اور مصر کے مسلم رہنماؤں نے بڑی بڑی سیاسی تحریکیں چلائی تھیں۔ رسول اللہ کے بعد علمائے امت نے صرف یہ کیا کہ سیاسی دائرے سے باہر رہ کر غیر سیاسی دائرے میں اپنی تمام سرگرمیاں محدود کردیں۔ پاکستان اور مصر کے مسلم رہنماؤں پر لازم تھا کہ وہ یہی طریقہ اختیار کریں۔ مثال کے طور پر مصر میں وہاں کے حکمراں جنرل جمال عبد الناصر نے سید قطب کو، جو کہ سیاسی اپوزیشن کے لیڈر تھے، پیش کش کی کہ وہ مصر میں تعلیم کی وزارت سنبھالیں، اور ملک کے نوجوانوں کو اسلامی انداز میں تربیت دیں۔ مگر سید قطب نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح 1962 میں پاکستان کے سابق صدر محمد ایوب خاں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کو یہ پیش کش کی کہ ان کو بہاول پور یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنا دیا جائے گا، اور اس کا پورا چارج بلا شرط ان کو دے دیا جائے گا۔ یہاں سید ابوالاعلیٰ مودودی کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ نوجوانوں کی اپنے نہج پر فکری تربیت کریں۔ مگر سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ دونوں صاحبان کا انکار رسول اللہ کی ہدایات اور امت کے اجماع کے واضح طور پر خلاف تھا۔ اس معاملے میں ان حضرات کا کوئی بھی عذر ہرگز قابل قبول نہیں۔

رسول اللہ نے حکمرانوں سے خروج کے خلاف جو واضح ہدایات دی تھی، اور جس پر آپ کے بعد تمام علمائے امت نے اجماع کر لیا، وہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ وہ آپ کی اس پیغمبرانہ حیثیت کی بنا پر تھا، جو آپ کو اللہ کی طرف سے دی گئی تھی، یعنی امت کو حکمت کی تعلیم دینا (الجمعة، 62:2)۔ تجربہ بتاتا ہے کہ آپ کی یہ تعلیم اعلیٰ حکمت (wisdom) پر مبنی تھی۔ اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں امت اس پیغمبرانہ حکمت پر قائم رہی، اس لیے مسلمان مسلسل طور پر کامیاب رہے۔ مگر بیسویں صدی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues

Printed page