اسلام دورِ جدید میں
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۲۶
اسلام دورِ جدید میں
دورِ جدید میں مسلمان جن مسائل سے دوچار ہیں، ان میں سے ایک مسئلہ وہ ہے، جس کو جدید تہذیب کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ اپنی پوری شدت کے ساتھ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے وسط میں پیدا ہوا، اور اب اس کے اوپر ایک صدی سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس مسئلہ سے نمٹنا تو درکنار ابھی تک ہم یہ بھی سمجھ نہ سکے کہ یہ مسئلہ کیا ہے، اور اس مسئلہ میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
اسلام کے نقطۂ نظر سے جدید تہذیب کا مسئلہ اصلاً یہ مسئلہ نہیں تھا کہ ماڈرن انسان ایک خاص قسم کا لباس پہنتے ہیں، اور ہم اسے پہنیں یا نہ پہنیں، یا یہ کہ گھروں میں استعمال کے لیے انھوں نے ایک خاص قسم کا فرنیچر تیار کیا ہے، اور ہم اپنے گھروں کو ان سے سجائیں یا نہ سجائیں، وغیرہ۔ یہ سوالات اسلامی یا مذہبی نہیں تھے۔ بلکہ تمدنی اور جغرافی سوالات تھے، اور تمدنی ذوق اور جغرافی حالات کے لحاظ سے ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جاسکتا تھا۔ اسلام کی نسبت سے جدید تہذیب کے مسائل حقیقتاً صرف دو تھے:
1- یورپ میں جدید تہذیب اور چرچ کے درمیان تصادم نے غلط طور پر جدید علوم کا رخ لامذہبیت کی طرف کر دیا۔ چنانچہ اس تصادم کا نتیجہ ہے (نہ کہ بذاتِ خود جدید تہذیب کا) کہ اس تہذیب کے ذریعے جو علوم پیدا ہورہے ہیں، یا جو معاشرہ بن رہا ہے، وہ مذہب سے بیزاری کی طرف جارہا ہے۔ جدید تہذیب، صنعتی تہذیب کے معنی میں، وقت کی ایک دریافت تھی، اور یقیناً اس قابل تھی کہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ مگر جدید تہذیب نے مغربی قوموں کو جس طرح طاقت ور بنا دیا، اور جدید تہذیب اور مسیحیت کے درمیان ٹکراؤ نے جس طرح اس کا رخ الحاد کی طرف کر دیا، وہ اسلام کے لیے فکری چیلنج تھا، اور یہاں ضرورت تھی کہ اس کا جواب مہیا کیا جائے۔ بدقسمتی سے اسلامی دنیا بروقت اس کا ثبوت نہ دے سکی کہ وہ ان باتوں کا واضح جواب رکھتی ہے۔ اس لیے نہ تو جدید تہذیب سے صحیح
‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues