Al-Risala · March 2020 · page 27

اسلام دورِ جدید میں

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۲۷

استفادہ ہوسکا، اور نہ اس چیلنج کا صحیح جواب مہیا کیا جا سکا۔

2- اس سلسلے میں دوسرا کام جو سمجھنے کا تھا، وہ یہ کہ جدید تہذیب کے ذریعے وہ مواقع (opportunities) پیدا ہوئے، جن کو استعمال کر کے عالمی سطح پر دینِ اسلام کی اشاعت کا مطلوب کام انجام دیا جا سکے ۔ دینِ اسلام کی اس عالمی اشاعت کے لیے ابتدائی زمانے میں حالات موافق نہ تھے ۔ جدید تہذیب نے بالواسطہ طور پر ناموافق حالات کو مکمل طور پر موافق بنا دیا ہے۔ اس جدید تہذیب کے نتیجے میں بہت سی مثبت چیزیں پیدا ہوئیں ۔ مثلاً جدید تعلیم کا فروغ، حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (realistic thinking) کا رواج، فکری جمود کا ٹوٹنا، دنیا میں پہلی بار کامل معنوں میں کھلا پن (openness) کا دور آنا، جدید وسائل کو کسی ریزرویشن کے بغیر رواج دینا، جدید کمیونی کیشن کے نتیجے میں عالمی انٹریکشن (global interaction) کا عمومی پھیلاؤ، دنیا میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ ہر آدمی کے لیے مواقع کے دروازے مکمل طور پر کھل گئے۔ دنیا میں پرنٹنگ پریس اور مواصلاتی دور (age of communication) وجود میں آیا۔ فطرت (nature) میں چھپے ہوئے موافق اسلام سائنسی حقائق دریافت ہوئے، اور عمومی طور پر وہ ہر ایک کی دسترس میں آ گئے ۔ دنیا میں مکمل معنوں میں مذہبی آزادی کا دور آیا، جس میں ہر ایک کو یہ موقع تھا کہ وہ جس مذہب کو چاہیں اختیار کرے، اور اس کی تبلیغ کرے، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ آدمی تشدد (violence) سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔

جدید تہذیب مسلمانوں کے لیے حدیث کی زبان میں مؤیدِ دینِ تہذیب ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062، مسند احمد، حدیث نمبر 20454، المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640) تھی۔ وہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم موقع (great opportunity) تھا، جس کو استعمال کر کے مسلمان جدید معیار کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں اسلام کی اشاعت کا کام کر سکتے تھے ۔ جدید تہذیب نے یہ کیا کہ اجارہ داری کے دور کو ختم کر دیا۔ اس طرح انسانی آزادی کا وہ مطلوب ماحول پیدا ہو گیا، جو خدا کے نقشہ تخلیق کے مطابق درکار تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page