Al-Risala · January 2020 · page 14

لعظ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۱۴

اسی طرح دوسرے مذاہب میں عبادتی مراسم (rituals) کی بھر مار ہے۔ ان مراسم میں معمولی فرق کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی کی عبادت ہی ادا نہیں ہوئی۔ اس قسم کی سادگی جو اسلام میں ہے، وہ اس کے لیے ایک زبردست تبلیغی قوت کی حیثیت رکھتی ہے۔ دورِ اول میں اسلام جو اتنی زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلا، اس کی کم از کم ایک وجہ یہی تھی۔ دوسرے مذاہب میں لوگ اصراور اغلال کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ اسلام نے ان کو سیدھا سادھا فطری مذہب پیش کیا۔ وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑے۔

بدقسمتی سے بعد کے دور میں مسلمانوں نے بزعمِ خود اسلام کی تعلیمات کو مفصل اور جامع بنانے کے لیے اس میں اضافے شروع کیے۔ فقہی اضافے، کلامی اضافے، اعتقادی اضافے اور متصوفانہ اضافے۔ ان اضافوں نے اسلام کے اوپر ایک مصنوعی پردہ ڈال کر اس کو اس کی فطری کشش سے محروم کر دیا۔

عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ کسی شخص کے اندر کوئی خرابی کی بات دیکھتے ہیں، تو وہ غیر جانب دار (indifferent) ہو جاتے ہیں۔ لوگ صرف اپنے بچوں کی خرابیوں کی اصلاح کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتے ہیں، دوسروں کی خرابیوں کی اصلاح سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ میری مراد یہاں انفرادی اصلاح سے ہے۔ کیوں کہ میں اجتماعی اصلاح کے نام پر اٹھنے کو لیڈری سمجھتا ہوں، نہ کہ حقیقۃً اصلاحی کام۔

مگر میرا حال یہ ہے کہ میں کسی فرد کے اندر کوئی خرابی دیکھتا ہوں، تو فورا ً دل بے چین ہو جاتا ہے۔ مثلاً 23 ستمبر 1978 کا واقعہ ہے۔ میرے یہاں مسلم اسکالر آئے۔ وہ سگریٹ پر سگریٹ پی رہے تھے۔ میں نے انھیں سمجھا بجھا کر آمادہ کیا کہ وہ سگریٹ چھوڑ دیں۔ چنانچہ انھوں نے سگریٹ پھینک دی، اور میری ڈائری میں یہ الفاظ لکھے :

آج بتاریخ 23 ستمبر 1978 سے میں نے سگریٹ چھوڑ دی۔ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page