Al-Risala · January 2020 · page 13

لعظ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۱۳

نے جواب دیا کہ وہ (پیدائشی) اتفاق کی بنا پر مسلمان ہیں، مگر ہم نے اپنے ارادہ سے اسلام کو اختیار کیا ہے:

They are Muslims by chance, but we are Muslims by choice. یہ فرق کوئی معمولی فرق نہیں۔ یہ فرق آدمی کے کردار میں زبردست فرق پیدا کرتا ہے۔ جن لوگوں کو اسلام محض پیدائشی طور پر مل جائے، ان کے اندر کوئی اسلامی حرارت نہیں ہوتی۔ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کے خلاف جھوٹے ہنگامے کر سکتے ہیں، مگر خود ان کے اپنے اندر اسلام ایک انقلاب کے طور پر داخل نہیں ہوتا۔

مگر جو شخص اسلام کو خود اپنے انتخاب سے اختیار کرے، اس کے لیے اسلام ایک ذہنی انقلاب کے ہم معنی ہوتا ہے۔ وہ اس کی اندرونی شخصیت میں بھونچال کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ایسے ہی افراد دراصل وہ لوگ ہیں، جو تاریخ بناتے ہیں۔

اسلام کی بہت سی خصوصیات ہیں جو مسلمانوں کو معمولی سی لگتی ہیں۔ مگر غیر مسلم ان خصوصیات کو بڑے اچنبھے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

مثلاً اسلام میں ایک شخص بلا واسطہ خدا کی عبادت کر سکتا ہے۔ ہم چوں کہ روزانہ مسجد میں جا کر نماز پڑھتے ہیں، ہمیں اس کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر ایک غیر مسلم جب دیکھتا ہے کہ نماز کا وقت آیا، اور مسلمان نے خدا کی طرف رخ کر کے اپنی عبادت شروع کر دی۔ وہ کسی واسطہ کے بغیر براہ راست اپنے خدا سے مربوط ہو گیا، تو اس کو یہ بات بہت زیادہ اسٹرائک (strike) کرتی ہے۔ اسی طرح اسلام میں ہر حکم کے ساتھ رعایتی دفعہ بھی شامل ہے۔ مثلاً وضو نہ کر سکو تو تیمم کر لو۔ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مشکل ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھ لو، وغیرہ۔ اسی قسم کی چیز ان لوگوں کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں جنھوں نے دوسرے مذاہب کے ماحول میں پرورش پائی ہے۔ کیوں کہ دوسرے مذاہب میں صرف ’’عزیمت‘‘ کے احکام ہیں، ان کے ہاں ’’رخصت‘‘ کے احکام نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page