Al-Risala · April 2020 · page 9

فرقان کیا ہے

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۹

فرقان کیا ہے

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: یٰاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَاناً (8:29)۔ یعنی اے ایمان والو، اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے فرقان عطا کرے گا۔ فرقان کا لفظی مطلب ہے فرق کرنے والا۔ یہ لفظ جب دین کے معاملے میں بولا جائے، تو اس سے مراد ہوگا حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا۔ اس معاملے میں تقویٰ کا رول یہ ہے کہ تقویٰ آدمی کے اندر حساسیت (sensitivity) پیدا کرتا ہے۔ متقی انسان حق اور ناحق کے معاملے میں بے حد حساس (sensitive) بن جاتا ہے۔

مفسر طبری نے فرقان کا مطلب ان الفاظ میں بیان کیا ہے: فُرْقَانُ يُفَرِّقُ فِي قُلُوبِهِمْ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، حَتَّى يَعْرِفُوهُ وَيَهْتَدُوا بِذَلِكَ الْفُرْقَانِ (تفسیر الطبری، 13/490)۔ یعنی فرقان وہ چیز ہے، جس سے انسان کے دلوں میں حق اور باطل کے درمیان فرق کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں، اور اس فرقان کے ذریعے ہدایت حاصل کرتے ہیں۔

فرقان کا مطلب بصیرت یا معیار (criterion) ہے۔ بصیرت کسی آدمی میں وہ اندرونی روشنی پیدا کرتی ہے کہ وہ ظاہری پہلوؤں سے دھوکا کھائے بغیر ہر بات کو اس کے اصل روپ میں دیکھ سکے، وہ ادھر ادھر کے مغالطوں میں الجھے بغیر اصل حقیقت تک پہنچ جائے۔ فرقان کا یہ معاملہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے، خواہ وہ ایک مذہبی آدمی ہو یا ایک تاجر اور ڈاکٹر اور انجینئر۔ فرقان اصلاً ایک انفرادی صفت ہے، یعنی حق و باطل میں امتیاز کی یہ صفت ابتدا میں فرد مومن میں پیدا ہوتی ہے۔ پھر بڑھ کر وہ گروہ مومن کی جماعتی صفت بن جاتی ہے۔ یہ صفت اس بات کی ضامن ہے کہ فرد مومن یا جماعت مومن ہر حال میں سچے راستے پر قائم رہے۔ کوئی خارجی واقعہ اس کو حق کے راستے سے ہٹانے والا نہ بنے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہ صفت کسی آدمی کے اندر تقویٰ کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔ تقویٰ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page