فرقان کیا ہے
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۱۰
سے آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا ہوتا ہے۔ یہ ڈر ایک صاحب ایمان کو اللہ کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط (cautious) بنا دیتا ہے۔ یہ صفت آدمی کو حق و باطل کے معاملے میں بہت زیادہ حساس بنا دیتی ہے۔ وہ ہر معاملے میں بہت زیادہ جان لیتا ہے کہ کہاں وہ حق پر قائم ہے، اور کہاں وہ حق سے تجاوز (deviate) کرنے والا بن گیا ہے۔ اس معاملے میں اس کی حساسیت اس کے لیے ایک ایسی داخلی صفت بن جاتی ہے، جو اس کو ہر موقعے پر چوکنا کردے۔ وہ حق سے بھٹکنے کے قریب پہنچ کر اس سے باخبر ہو جائے، اور دوبارہ حق کے راستے پر آ جائے۔
سائنسی ترازو (scientific balance) بے حد دقت (precision) کے ساتھ دو چیزوں میں وزن کے فرق کو بتا دیتا ہے۔ اسی طرح تقویٰ سے بننے والا فرقان گویا حق و باطل کا سائنٹفک ترازو ہے۔ وہ ادنیٰ فرق کے بغیر یہ بتا دیتا ہے کہ کس چیز میں حق کا پہلو کتنا ہے، اور باطل کا پہلو کتنا ہے۔ اس معاملے کا ایک اظہار انسان کے کلام میں ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر مبنی بر تقویٰ فرقان نہ بنا ہو، وہ الفاظ بولیں گے، لیکن ان کے الفاظ گہری معنویت سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے کلام میں وضوح (clarity) نہیں ہوتا۔ ان کے کلام میں لوگوں کو کوئی ٹیک اوے (takeaway) نہیں ملتا۔ ان کمیوں سے پاک صرف وہ کلام ہوتا ہے، جو صحیح معنوں میں کلام فرقان ہو۔
اگر آدمی کے اندر فرقان موجود ہو، تو اس کے اندر کرائٹیرین (criterion) موجود ہوگا، اس کے اندر وہ حساسیت پائی جائے گی، جو اس کے کلام کو چھانٹ کر اس قابل بنائے گی کہ وہ صرف وہ بات کہے، جو حقیقت واقعہ کے عین مطابق ہو۔ جس کلام میں باطل کا ادنیٰ شائبہ بھی موجود ہو، تو صاحب فرقان انسان کا نفیس ذوق اس کو قبول کرنے سے انکار کر دے گا۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں فرقان سے مراد معنوی تفریق ہے۔ دوسرے لفظوں میں متعلق (relevant) اور غیر متعلق (irrelevant) کے فرق کا جاننا۔ تقویٰ کا رول اس معاملے میں یہ ہے کہ اللہ سے خوف کی بنا پر آدمی کے اندر حساسیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ اس میں مانع بن جاتی ہے کہ وہ حق کے معاملے میں متعلق اور غیر متعلق بات کو ملا دے۔ وہ صرف الفاظ کو جانے، وہ اس بات کو نہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues