Al-Risala · April 2020 · page 11

فرقان کیا ہے

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۱۱

جانے کہ ایک قسم کی بات، اور دوسری قسم کی بات میں کیا فرق ہے۔ یہی معنوی تفریق یا معنوی امتیاز کا دوسرا نام فرقان ہے۔

معنوی تفریق کے لیے داخلی حساسیت کے علاوہ کوئی اور چیز مؤثر نہیں بن سکتی۔ اس داخلی حساسیت کا واحد راز تقویٰ، یعنی اللہ کا خوف ہے۔ جس آدمی کے اندر اللہ کی پکڑ کا ڈر پیدا ہو جائے، تو وہ اس سے بچے گا کہ وہ ایسی کوئی بات کہے، جو اللہ کے یہاں قابلِ قبول نہ ہو۔ مثلاً قرآن میں اس نوعیت کی ایک مثال وہ ہے، جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے: اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰو ۙ وَ اَحَلَّ اللَّهُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (2:275)۔ یعنی انھوں نے کہا کہ تجارت کرنا بھی ویسا ہی ہے جیسا سود لینا ۔ حالاں کہ اللہ نے تجارت کو حلال ٹھہرایا ہے، اور سود کو حرام کیا ہے۔ دونوں میں یہ فرق ہے کہ تجارت میں آدمی کسی کو کچھ دے کر اس سے کچھ لیتا ہے، جب کہ ربا (usury) میں آدمی کسی حاجت مند کا استحصال(exploit) کرتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ تقویٰ کے نہ ہونے سے انسان کے اندر سے حساسیت ختم ہو جاتی ہے، اور جب حساسیت نہ ہو، تو وہ اسی قسم کی بات بولنے لگتا ہے۔ مثلاً لوہا اور روئی کے درمیان مادی فرق ہوتا ہے، اس فرق کو وہ ہاتھ سے چھو کر جان لیتا ہے۔ لیکن معنوی فرق اس سے مختلف ہے۔ معنوی فرق کو وہی انسان جان سکتا ہے، جو اللہ سے ڈرتا ہے، اور اللہ کے سامنے پیش ہونے سے کانپتا ہے۔ مادی فرق کو انسان ہاتھ سے چھو کر جان سکتا ہے۔ لیکن معنوی فرق کا مسئلہ پہچان کا ہے۔ یہ پہچان صرف داخلی حساسیت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

اعلان

سی پی ایس انٹرنیشنل، نئی دہلی، مولا نا وحید الدین خاں صاحب کے ہندی مضامین کو اکٹھا کر رہی ہے۔ جن لوگوں کے پاس مولا نا وحید الدین خاں صاحب کے پرانے ہندی مضامین موجود ہوں، وہ ہم سے رابطہ قائم کریں، شکریہ (ادارہ)

فون نمبر:9999944119 ای میل:info@cpsglobal.org

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page