دریافتِ امت
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۱۲
دریافتِ امت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی حدیثیں امتِ مسلمہ کے حال اور مستقبل کے بارے میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ، قُدِّرُ فَعَ عَنْهُمُ الْعَذَابُ، إِلَّا عَذَابَهُمْ أَنْفُسَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 6909)۔ یعنی میری امت رحم کی ہوئی امت ہے۔ اس سے عذاب اٹھالیا گیا ہے، سوائے اس کے کہ ان کا خود کو اپنے ہاتھوں سے عذاب دینا۔ اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدی پر وہ عذاب نہیں آئے گا، جو پچھلی امتوں پر آیا تھا۔ یہ بات امتِ مسلمہ کے لیے بے حد اہم ہے۔ مگر یہ بات امت کی فضیلت کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ امت کی ذمے داری کے اعتبار سے ہے۔
پچھلی امتوں کی ذمے داری محدود مدت کے اعتبار سے تھی۔ مگر امتِ مسلمہ کی ذمے داری ختم نبوت کی بنا پر قیامت تک کے لیے ہے۔ کیوں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جو ساتویں صدی کے رُبع اول میں آئے، وہ اللہ کے منصوبے کے مطابق آخری پیغمبر (Final Prophet) تھے۔ اب آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں۔ لیکن جہاں تک پیغمبر کے مشن کی بات ہے، وہ بدستور قیامت تک جاری رہے گا۔ اب مسلمان اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانے کے لیے درمیانی وسیلہ ہیں۔ یعنی اللہ کا پیغام جو رسول کے ذریعے امتِ مسلمہ کو پہنچا ہے، اس پیغام کو رسول کی نیابت میں قیامت تک آنے والی تمام قوموں کو پہنچانا امتِ مسلمہ کی ذمے داری ہے۔ یہ اس دعوتی مشن کا تسلسل ہے، جس کو پیغمبر اسلام نے اپنے زمانے میں جاری کیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی نبوت شخصی وجود کے اعتبار سے ساتویں صدی کے لیے تھی، لیکن پیغام کے اعتبار سے وہ پوری تاریخ کے لیے ہے۔ اس بنا پر امت محمدی کو امتِ وسط کہا گیا ہے، یعنی پیغمبر اور اقوامِ عالم کے درمیان کی امت۔ ایک اور آیت میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنِ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ (6:19)۔ یعنی مجھے یہ قرآن وحی کیا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues