Al-Risala · April 2020 · page 13

دریافتِ امت

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۱۳

گیا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو انذار کروں، اور وہ بھی (انذار کریں) جن کو یہ پہنچے۔ امت مسلمہ کے بارے میں قرآن کا یہ اعلان بہت زیادہ بامعنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کے لیے جائز نہیں کہ وہ پیغمبرانہ مشن، دعوت الی اللہ کے علاوہ کسی اور کام میں اپنے آپ کو مصروف کرے۔ دعوت الی اللہ کا کام ان کے لیے فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے، نہ کہ فرض کفایہ۔ امت محمدی اگر پیغمبر کے مشن کو اپنا مشن بنائے تو اس پر اللہ کا وہ وعدہ پورا ہوگا، جو قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (5:67) _ یعنی لوگوں کی کسی امکانی زیادتی سے محفوظ رکھنے کی ضمانت اللہ کی طرف سے ہوگی۔ اس کے برعکس، اگر امت اپنی اس منصبی ذمے داری پر قائم نہ رہے، تو اس کے بعد اس کا انجام وہی ہوگا، جو ایک حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: رَفَعَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَدَهُ عَنِ الْخَلْقِ فَلَا يُبَالِي فِي أَي وَادٍ هَلَكُوا (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 1752) _ یعنی اللہ عزوجل اپنا ہاتھ مخلوق سے اٹھا لیتا ہے، تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدی کو ختم نبوت کے بعد تبلیغ ما انزل اللہ کے اصول کو اپنی قومی منصوبہ بندی کا مرکزی اصول بنانا ہوگا۔ اس کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اس معاملے میں دوسرے پہلوؤں کو اللہ کے حوالے کریں، اور اپنے آپ کو اسی ایک مقصد کے لیے خاص کر لیں۔ امت محمدی اگر اس اصول کو اپنی قومی پالیسی بنائے، تو یہ اس کی جانب سے اللہ کی نصرت کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اس وقت امت اس خدائی فیصلے کی حق دار بن جائے گی، جو قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ (22:40) _ یعنی اللہ ضرور اس کی مدد کرتا ہے، جو اس کی مدد کرے۔ ختم نبوت کے بعد کے زمانے میں فطرت کے قانون کے مطابق بار بار ایسا ہوگا کہ امت کے لیے مختلف قسم کے ڈسٹریکشن پیش آئیں گے۔ لیکن امت کے رہنماؤں کا یہ فرض ہوگا کہ وہ ہر مرحلے میں متعلق (relevant) کو غیر متعلق (irrelevant) سے الگ کریں۔ وہ مختلف حالات سے دوچار ہونے کے باوجود یہ کرتے رہیں کہ غیر متعلق کو نظر انداز کریں، اور صرف متعلق کی بنیاد پر اپنا قومی منصوبہ بنائیں ۔ یہ اصول قیامت تک ان کی حفاظت اور کامیابی کا ضامن ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page