Al-Risala · April 2020 · page 31

نئے عہد کے دروازے پر

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۳۱

صرف پانچ منٹ میں مکمل کردیتی ہے۔ سب سے پہلا سوال جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران اس مشین نے صرف دو گھنٹے میں حل کیا، وہ اتنا بڑا تھا کہ اسے حل کرنے میں ریاضی کے دو تربیت یافتہ ماہروں کو 50 برس تک کام کرنا پڑتا۔ مگر خود انسانی زندگی کے مسائل وہ اب تک حل نہ کر سکا۔ ہر نیا ازم‘‘ (ism) جو ایجاد کیا جاتا ہے، وہ مسائل زندگی کو کچھ اور الجھا دیتا ہے۔

انسان نے سائنس کے ذریعے بڑے بڑے انجن والے جہاز (ship) بنائے، جن پر وہ سمندروں میں سفر کرتے ہیں۔ اس نے لوہے کی پٹریاں بچھائیں، جن پر ریلیں دوڑتی ہیں۔ اس نے تار اور بے تار برقی کا وہ عظیم سلسلہ قائم کیا، جس پر انسان کی آواز اپنا راستہ بھولے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے۔ مگر خود انسانی زندگی کے لیے راہ عمل کیا ہو، وہ کس سمت میں چلے اور کس سمت جانے سے بچے، اس کا کوئی واضح نقشہ ابھی تک اسے نہیں ملا۔

اس نے ایسے اسٹیشن قائم کیے، جو فضا میں اڑنے والے ہوائی جہازوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ مگر انسان کو کنٹرول کرنے والا کوئی نظام وہ ابھی تک دریافت نہ کر سکا۔ اس نے ایسے قوانین بنائے، جو آٹومیٹک ٹیلی فون ایکسچینج (automatic telephone exchange) کے اندر لاکھوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے تار کو نہایت باقاعدگی کے ساتھ باہم جوڑتے رہتے ہیں، مگر وہ ایک گھر کے دو قریب ترین آدمیوں کو بھی ایک رشتے میں باندھنے کا اصول معلوم نہ کر سکا، اور حالت یہ ہے کہ آج ایک عورت کسی مرد سے نکاح کرتی ہے، اور کل اس لیے وہ طلاق لے لیتی ہے کہ رات کو مرد کے خراٹے کی آواز اسے پسند نہیں آئی۔

سفر اور مواصلات (communication) کے جدید ترین ذرائع نے ساری دنیا کو ایک کر دیا ہے۔ آپ ہوائی جہاز سے اڑ کر چند گھنٹوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ ایک شخص نیو یارک میں ٹیلی فون اٹھا کر دنیا کے کسی بھی ملک کے آدمی سے بات کر سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود دریاؤں اور پہاڑوں کی حد بندی سے انسانیت آزاد نہیں ہوئی۔ سمندر کی مچھلیاں اٹلانٹک (Atlantic Ocean) سے بحر الکاہل (Pacific Ocean) اور بحر ہند (Indian Ocean) تک

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page