اس عہد پر قائم رکھے۔ “
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۱۹
وجہ سے غیر ضروری قسم کی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ہم کو چاہیے کہ ہم آدمی کو زیادہ سے زیادہ رعایت دیں۔ اجتماعی زندگی کو فساد سے بچانے کا یہی واحد کامیاب طریقہ ہے۔
قرآن کی سورہ المؤمن میں ان لوگوں کا ذکر ہے، جن کے لیے آخرت میں سزا کا فیصلہ ہو گا۔ ان کے اس برے انجام کی وجہ بتاتے ہوئے آیا ہے: ذَلِكُمْ بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِنْ يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا (40:12) ۔ یعنی یہ تم پر اس لیے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے، اور جب اس کے ساتھ شریک کیا جاتا تو تم مان لیتے۔
یہی موجودہ دنیا میں انسان کی اصل گمراہی ہے ۔ انسان کبھی ایسا نہیں کرتا کہ وہ مکمل طور پر ناحق کا علم بردار بن جائے ۔ وہ ہمیشہ ایسا کرتا ہے کہ حق کے ساتھ ناحق کو ملاتا ہے، اور ملاوٹی حق کو اختیار کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پیغمبروں کی دعوت بے آمیز حق کی دعوت ہوتی ہے۔ پیغمبر اور غیر پیغمبر کی دعوت میں خالص منطقی اعتبار سے، حق اور ناحق کا فرق نہیں ہے۔ بلکہ بے آمیز حق اور آمیزش والے حق کا فرق ہے۔ یہی فرق ایک گروہ کو قابل انعام بناتا ہے، اور دوسرے گروہ کو قابلِ سزا۔ ملاوٹی حق سے انسان کو اتنی زیادہ دلچسپی کیوں ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ اس طریقہ کو استعمال کرنے میں آدمی کے اپنے جھوٹے دین کی نفی نہیں ہوتی۔ وہ خدا کو مانتے ہوئے بتوں کی پرستش کو بھی جاری رکھ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ ملاوٹی حق کو پیش کریں، وہ فوراً عوام کے اندر مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کی باتوں میں ہر ایک اپنا recognition recognitionپالیتا ہے۔ ایسے لوگ ایک طرف اصول پرستی کی باتیں کرتے ہیں، اور دوسری طرف مفاد پرستی کی ۔ ایک طرف وہ آفاقیت کا قصیدہ پڑھتے ہیں، اور دوسری طرف قوم پرستی کا ترانہ گاتے ہیں ۔ وہ ایک طرف آخرت کا نام لیتے ہیں اور دوسری طرف دنیوی جھگڑوں میں بھی لوگوں کے ساتھ شریک رہتے ہیں۔
پیغمبر کی دعوت کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ہر ایک اپنی نفی محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues