اس عہد پر قائم رکھے۔ “
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۲۰
کے مقابلہ میں ”مشرک“ لیڈر کو ماننے میں کسی کو اپنی نفی نظر نہیں آتی۔ اس میں کسی کو اپنی جگہ سے ہٹنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ہر آدمی جہاں ہے، وہیں وہ اپنے مفروضہ حق کو بھی پالیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرک کے ساتھ بھیڑ جمع ہوجاتی ہے، اور موحد اس دنیا میں اکیلا رہ جاتا ہے۔ ایک شریر آدمی نے موقع پا کر ایک بزرگ کے مکان پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد اس نے مزید یہ کیا کہ بزرگ کے اوپر جھوٹے مقدمے قائم کر دیے تا کہ وہ دباؤ میں آکر اس کے ناجائز قبضہ کو مان لیں۔ عدالت کی پیشیاں ہونے لگیں، اور بزرگ کی توجہ اور پیسہ غیر ضروری طور پر اس میں ضائع ہونے لگے۔ تاہم بزرگ اس سے پریشان نہیں ہوئے۔ مذکورہ شخص سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا:
یاد رکھو، آخری پیشی خدا کے یہاں ہونے والی ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی تدبیریں کر کے دوسرے کے مال پر قبضہ کرتا ہے اور پھر فتح کا قہقہہ لگاتا ہے۔ وہ فرضی کارروائیاں کر کے دوسرے کی جائداد کو اپنے نام لکھوا لیتا ہے اور پھر اپنے دوستوں میں اس کا تذکرہ اس طرح کرتا ہے گویا اس نے کوئی بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
مگر اس قسم کی فتوحات اور کامیابی جھوٹی فتوحات اور کامیابیاں ہیں۔ وہ خدا کے یہاں پیشی کے وقت اتنی بے معنی ثابت ہوں گی کہ آدمی کے پاس الفاظ بھی نہ ہوں گے کہ وہ اپنی حمایت میں کچھ بول سکے۔ وہ وہاں خود ہی اپنے جرم کا اعتراف کرے گا۔ اگر چہ اس وقت اعتراف کرنا، اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
ضمام بن ثعلبہ ایک صحابی ہیں۔ وہ اپنے قبیلہ سعد بن بکر کی طرف سے نمائندہ بن کر مدینہ آئے، اور اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد وہ اسلام کے داعی بن کر اپنے قبیلہ کی طرف لوٹے ۔ قبیلہ میں پہنچ کر انھوں نے پہلی بات جو کہی وہ یہ تھی: کتنے برے ہیں، یہ لات اور عزیٰ، جن کی تم پرستش کرتے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues