نئے عہد کے دروازے پر
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۳۷
ہے کہ شہاب ثاقب جل اٹھتے ہیں۔ یہی جلنے کی روشنی ہے، جو ہم کو ٹوٹتے ہوئے تارے کی شکل میں نظر آتی ہے۔ اس ٹکراؤ سے شہاب ثاقب پاش پاش ہو کر باریک ذرات کی شکل میں ہوا میں منتشر ہو جاتے ہیں۔ یہ ہوا کا غلاف دنیا کے گرد نہ ہوتا تو شہاب ثاقب بہت بڑی تعداد میں نہایت شدت کے ساتھ زمین پر گرتے۔ ہم اُن کے خلاف کوئی بچاؤ نہیں کر سکتے تھے، اور ساری دنیا کا وہی انجام ہوتا، جو انجام ہیروشیما اور ناگاسا کی کا ایٹم بم کے حملے میں ہو چکا ہے۔ چاند کی سطح پر بہت سے غار ہیں، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اسی قسم کے بڑے بڑے شہاب ثاقب (Meteors) کی بم باری سے پیدا ہوئے ہیں۔ پتھروں کی یہ خطرناک بارش جو ہر وقت فضا میں ہو رہی ہے، اس سے ہمارا بچے رہنا کیا محض ایک اتفاق ہے، اور اس میں کسی انتظام کرنے والے کا انتظام شامل نہیں۔ کائنات کے اندر اس طرح کی بے شمار حقیقتیں اس بات کی گواہ ہیں کہ کوئی عظیم قوت ہے، جو اس کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اور نہایت باقاعدگی کے ساتھ اس کا انتظام کر رہی ہے۔ کوئی شخص کیا محض اس لیے خدا کا انکار کر سکتا ہے کہ وہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا ہوا نہیں ہے۔ جہاں جا کر وہ اسے دیکھ آئے۔ ایتھر (Ether) ایک ایسی چیز ہے، جو ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے، جس پر ٹیلی ویژن کی تصویریں اور لاسلکی (wireless) کے پیغامات سفر کرتے ہیں۔ مگر کیا ایتھر کو کسی نے دیکھا ہے۔ وہ ایک ایسا لطیف عنصر ہے، جس کا کوئی وزن نہیں۔ وہ نہ جگہ گھیرتا ہے، اور نہ کسی خورد بین سے دیکھا جا سکتا ہے، مگر سب لوگ اس کا وجود تسلیم کرتے ہیں۔
جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں خدا کو اس وقت تک نہیں مانوں گا، جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لوں، وہ گویا اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ کائنات کی وسعتوں کو اس نے پار کر لیا ہے۔ جس کائنات کے بارے میں اب تک ہم یہ نہ جان سکے کہ وہ کتنی لمبی چوڑی ہے، ہم اس کے پیدا کرنے والے کا کس طرح احاطہ کر سکتے ہیں۔ سورج خدا کی ایک بہت چھوٹی سی مخلوق ہے، مگر کروڑوں میل دور ہو کر اس کی روشنی کا یہ حال ہے کہ ہم اس پر نظر ٹھہرائیں تو ہماری آنکھ کی روشنی زائل ہو جائے۔ پھر وہ خدا جو ساری قوتوں کا خزانہ ہے۔ جو نہ صرف سورج بلکہ اس سے بڑے بڑے بے شمار ستاروں کو بھی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues