Al-Risala · April 2020 · page 38

نئے عہد کے دروازے پر

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۳۸

روشنی اور حرارت پہنچارہاہے۔ کیا وہ ایسا ہوگا کہ ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں۔ خدا کو ماننے کے لیے خدا کو دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کو ہر جگہ اس کی حیرت انگیز کاریگری میں ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اس پھیلی ہوئی کائنات کا اس قدر منظم ہوکر چلنا، اور اس کے مختلف عناصر میں باہم اس درجہ موافقت (harmony) ہونا، ایک خدا کی موجودگی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ہندوستان میں ریلوے کا ایک چھوٹا سا نظام ہے۔ 1955 میں اس کے راستوں کی لمبائی مجموعی طور پر 34 ہزار میل ہے، اور جس کے انتظام کے لیے اس وقت تقریباً سوا لاکھ آدمی ملازم ہیں۔ مگر اتنے سارے آدمیوں کی دیکھ بھال کے ساتھ اس مختصر سی لائن پر جو ٹرینیں دوڑتی ہیں، ان سے ہر سال تقریباً 25 ہزار حادثے ہوتے ہیں۔ مگر کائنات کا اتنا بڑا کارخانہ کروڑوں اور اربوں سال سے چل رہا ہے، اور اس میں کوئی ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا۔ کیا یہ واقعہ اس بات کے ثبوت کے لیے کافی نہیں ہے کہ یہاں ایک زندہ قوت موجود ہے، جو اپنے وسیع علم اور غیر معمولی اختیارات کے ذریعہ کائنات کے نظام کو چلا رہی ہے۔ یورپ میں ستر ھویں صدی عیسوی میں سائنس اور کلیسا (church) کا جو تصادم ہوا، اور جس میں کلیسا نے بالکل غلط طور پر مذہب کا نام لے کر نئی سائنسی تحقیقات کو دبانے کے لیے نہایت وحشیانہ مظالم کیے۔ اس کے نتیجے میں سائنس دانوں کو مابعد الطبیعی نقطہ نظر سے ایک ضدی پیدا ہوگئی، اور انھوں نے کوشش کی کہ کائنات کی تعبیر اس طرح کی جائے جس سے ثابت ہو کہ کلیسا کی بنیاد جس خدا کے تصور پر قائم ہے، اس کا کہیں وجود ہی نہیں ہے۔ اس کائنات کا کوئی چلانے والا نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے آپ ایک بے جان مشین کی طرح چلی جارہی ہے۔ اسی زمانے میںلارڈ کیل وِن (Lord Kelvin) نے کہا تھا کہ جب تک میں کسی چیز کا مشینی ماڈل نہیں بنا لیتا، تب تک میں اسے سمجھ نہیں سکتا۔ دمدار ستارے جو جاہل قوموں کے نزدیک سلطنتوں کے زوال اور بادشاہوں کے انتقال کا نشان سمجھے جاتے تھے، جب ان کی حرکت ، تجاذب (gravitation) کے عالم گیر قانون کے مطابق ثابت کی گئی، تو نیوٹن (Isaac Newton) نے کہا کہ کیا اچھا ہو، اگر دوسرے واقعات قدرت بھی اسی قسم کے استدلال سے میکانکی اصولوں (mechanical principles) کے ذریعے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page