Al-Risala · April 2020 · page 39

نئے عہد کے دروازے پر

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۳۹

اخذ ہو سکیں۔

مگر یہ ایک جذباتی ردِ عمل تھا، اور بہت جلد معلوم ہو گیا کہ کائنات کی صحیح توجیہہ (explanation) بن نہیں سکتی، اگر اس کو صرف ایک بے دماغ مشین مان لیا جائے۔ چنانچہ اب بڑے بڑے سائنس داں کائنات کے اندر ایک کارفرما قوت کو ماننے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انگلستان کے مشہور سائنٹسٹ سرجیمز جینز (Sir James Jeans) نے اپنے ایک مضمون میں زمین اور آسمان کے حیرت انگیز نظام پر گفتگو کرتے ہوئے آخر میں لکھا ہے: ”کائنات ایک بہت بڑی مشین کے بجائے ایک بہت بڑے ذہن (mind) سے زیادہ مشابہ معلوم ہوتی ہے۔ مادے کے اس نظام میں دماغ اتفاقی طور پر محض ایک اجنبی کی حیثیت سے داخل نہیں ہو گیا ہے، بلکہ یہی غالباً مادے کے اس نظام کو بنانے والا، اور اس کے اوپر فرماں روائی کرنے والا ہے۔ پھر یہ دماغ یقیناً ایک عام انسان کے دماغ کی طرح نہیں ہے، بلکہ وہ ایسا دماغ ہے جس نے مادے کے جوہر (atoms) سے انسانی دماغ کی تخلیق کی ہے، اور یہ سب کچھ ایک اسکیم کی شکل میں اس کے ذہن میں پہلے سے موجود تھا“ The Mysterious Universe, by Sir James Jeans, p. 137, 1938 (London)

یہی ذہن“ دراصل وہ عظیم اور برتر خدا ہے، جو تمام انسانوں کا مالک اور ان کا حاکم ہے۔ ساری کائنات اسی خدا کی فرماں برداری میں لگی ہوئی ہے۔ پھر انسان کا راستہ کیوں کر اس سے الگ ہو سکتا ہے۔ ایک ریل گاڑی جو کسی تیز رفتار انجن کے ساتھ بندھی ہوئی دوڑی چلی جا رہی ہو، اس کا کوئی ایک ڈبہ اگر اپنے آپ کو اس سے الگ کر کے کوئی دوسرا راستہ بنانا چاہے، تو اس کا انجام تباہی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک صحیح ترین راستہ صرف یہ ہے کہ انسان بھی اسی ہستی کا مطیع ہو جائے، جس کی اطاعت اس کے گردوپیش کا سارا عالم کر رہا ہے۔ آسمان کے ستارے اگر جذب کشش کے نظام سے اپنے آپ کو الگ کر لیں، تو آپس میں وہ ٹکرا کر تباہ ہو جائیں، اور ایک دن بھی ان کی زندگی باقی نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page