نئے عہد کے دروازے پر
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۴۰
یہی حال آج انسان کا ہے۔ انسان نے اگر خدا کا حکم ماننے سے انکار کیا، تو گویا اس نے پورے انتظام کائنات سے الگ راستہ اختیار کیا۔ اس نے وہ راستہ چھوڑ دیا، جس پر مخلوقات کا پورا قافلہ چلا جا رہا ہے، یعنی فطرت کا راستہ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسانی زندگی میں سخت ابتری پیدا ہو گئی ہے۔ امن اور خوش حالی اور سکون کے الفاظ ڈکشنریوں میں لکھے ہوئے تو ملتے ہیں، اور لیڈروں کی زبان سے آئے دن سنے بھی جاتے ہیں، مگر واقعہ یہ ہے کہ دنیا اب ان نعمتوں سے محروم ہو چکی ہے۔ اور نہایت تیزی سے وہ ایک خوفناک انجام کی طرف دوڑی چلی جا رہی ہے۔
اس کا علاج صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے خالق کی طرف اپنے اختیار سے پلٹ آئے۔ وہ اس کو اپنا رب اور خالق تسلیم کرے، اور اس رسی کو مضبوطی سے تھام لے، جس کے علاوہ ایک مرکز پر جمع ہونے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ 12 عناصر ہیں، جن سے مل کر آدمی کا جسم بنا ہے۔ ہائیڈروجن، آکسیجن، نائٹروجن، کاربن، فاسفورس، گندھک، کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم، سوڈیم، کلورین اور فولاد۔ یہی 12 چیزیں ہیں جن سے ننانوے فی صد انسانی جسم کی ترکیب ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ 3 عناصر (elements) اور ہیں، جن کی ضرورت جسم کو برابر پڑتی ہے— آیوڈین، میگنیز اور تانبا۔ یہ عناصر جس مقدار میں جسم کے اندر موجود ہیں، ان کا تخمینہ کر کے قیمت کا اندازہ کیا گیا تو 25 فرانک ہوئی۔ اس 25 فرانک کے مادے سے انسان جیسی حیرت انگیز مخلوق کا بنانا کیا محض ایک کھیل ہے، جو چند دن کے لیے کھیلا گیا ہے۔ ہم بولتے ہیں۔ بظاہر یہ بہت آسان سی بات ہے، مگر کوئی چھوٹے سے چھوٹا حرف بولنے کے لیے بھی جسم انسانی کے اندر 70 نسوں (veins) کو حرکت کرنی پڑتی ہے۔ ہم دیکھتے اور سنتے ہیں، لیکن فضا کے اندر روشنی اور آواز کی لہریں پیدا ہونے کا عجیب و غریب نظام نہ ہوتا تو ہم آنکھیں رکھ کر بھی اندھے ہوتے اور کان ہوتے ہوئے بھی ہمیں کچھ سنائی نہ دیتا۔ یہ خون جو ہم کو قوت اور زندگی بخشتا ہے۔ اس کو دل سے جسم کے مختلف حصوں میں پہنچانے کے لیے جتنی شریانیں (arteries) ہیں، اور پھر دل کی طرف واپس لانے کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues