نئے عہد کے دروازے پر
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۴۱
لیے جو وریدیں (veins) ہیں، اگر ان کے سروں کو ایک دوسرے سے ملا کرنا پا جائے تو 3 لاکھ 50 ہزار میل کی لمبائی ہوگی، جو پوری زمین کے گرد چودہ بار لپٹی جاسکتی ہے۔ پھر یہ دماغ جس سے ہم سوچتے ہیں، اور جو 3 لاکھ سے زیادہ اعصابی تاروں کے ذریعہ پورے بدن کو کنٹرول کرتا ہے، کس قدر عجیب ہے۔ کیا یہ حیرت انگیز انسان بس اسی لیے ہے کہ چند سال دنیا میں زندگی گزارے، اور اس کے بعد مر کر مٹی میں مل جائے۔ یہ انسان جس کی زندگی کے لیے ہوا اور پانی اور سورج کا انتظام کیا گیا ہے، جس کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے زمین میں بے شمار قسم کی چیزیں پیدا کی گئی ہیں، کیا اس کا انجام بس یہی ہے کہ وہ بچے سے جوان ہو، پھر بوڑھا ہو، اور پھر ایک دن مر کر ختم ہو جائے۔
ایک اور پہلو سے دیکھیے، ایک شخص بہت نیک اور معقول ہے، مگر اس کی ساری زندگی تکلیف میں گزر جاتی ہے۔ وہ خود کسی کا مال نہیں چھینتا، مگر دوسرے اس کے گھر میں چوری کرتے ہیں۔ وہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتا، مگر دوسروں سے اسے تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا، مگر دوسرے اس پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔ وہ جب عدالت میں دادرسی کے لیے جاتا ہے، تو وہاں بھی دوسرے لوگ اپنے پیسے اور سفارش کے زور سے مقدمہ جیت جاتے ہیں، اور الٹے اسی کو سزا ہو جاتی ہے۔ کیا اس ظلم کا کوئی انصاف نہیں ہوگا۔
کچھ لوگ اپنے ذہن سے ایک نظریہ گھڑتے ہیں، اور اس کو نافذ کرنے کے لیے لاکھوں بندگان خدا کو قتل کر کے ان کی املاک اور جائداد چھین لیتے ہیں، اور پورے ملک کو جیل خانہ کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کیا اس کی کوئی باز پرس نہیں ہے، کچھ لوگ ملک کے نظم و نسق پر قابض ہو کر قدرت کے ذرائع کی اس انداز میں تحقیق کرتے ہیں کہ ان سے کیسے کیسے خطرناک ہتھیار بنائے جاسکتے ہیں، اور پھر بموں کی بارش سے پورے پورے شہروں اور ملکوں کو آگ میں بھون ڈالتے ہیں۔ کیا اس کی کوئی پوچھان سے نہیں ہوگی۔
کسی ملک میں چند سرمایہ داروں کے پاس اناج اور پھل کی کافی پیداوار ہوتی ہے، مگر وہ بھاؤ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues