Al-Risala · January 2020 · page 22

All roads lead to Rome

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۲۲

کھنڈروں میں ہے یا ان کتابوں میں جو لائبریریوں کی زینت بننے کے لیے رکھی جاتی ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے انسان اگر نصیحت لے تو وہ کبھی گھمنڈ میں مبتلا نہ ہو۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ آنکھ والا وہ ہے، جو اپنے عروج میں زوال کا منظر دیکھے۔ جو اپنی بلند عمارتوں کو پیشگی بات ہے نہ کہ ولا واہب ہے، اس کا جواب اس کی روح میں دیسی ( ریت طور پر کھنڈ رہوتا دیکھ لے۔

شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی (1983-1898) علمائے دیوبند میں سے تھے۔ انھوں نے ایک مرتبہ وعظ میں کہا تھا، جس کا خلاصہ یہ ہے :

"میرے نزدیک آج کل جھگڑے اور فساد کی بنیاد یہ ہے کہ ہر شخص سواسیر بننا چاہتا ہے، کوئی شخص سیر بن کر رہنا نہیں چاہتا۔ اگر خود کو سیر اور دوسروں کو سواسیر سمجھنے کا جذبہ پیدا ہو جائے تو آج ہی یہ سارے جھگڑے اور فساد ختم ہو جائیں۔ " (صحبت با اہل دل) یہ نہایت صحیح بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سارے جھگڑوں کی جڑ لوگوں کا یہی جذبہ ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں سوچتا کہ بس چند دن کی زندگی تک یہ سارے جھگڑے ہیں ، اس کے بعد انسان ہوگا اور اس کا خدا ہوگا۔ پھر تو نہ کوئی سیر ہوگا اور نہ کوئی سوا سیر۔ آہ، انسان آج سیر بن کر رہنے پر راضی نہیں حالاں کہ اس پر وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ نہ ہی سیر رہے گا اور نہ سو اسیر ۔ بلک وہ کچھ نہ ہوگا۔ کیوں کہ اللہ کے مقابلہ میں کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر لوگ جان لیں کہ بالآخر وہ کچھ بھی نہ رہیں گے تو وہ یونہی سیر بننے پر راضی ہو جائیں اور پھر تمام عورت بات بات میں نہ بارہا روٹھنا پھلنا شروع کر دیں تو رہی سہی ہرب پر جھگڑے بھی اچانک ختم ہو جائیں۔

دیوتاں ان کے یہاں کے ی مذہب کی روح پھونکا ہے مسٹر نوفیر احمد ایم اے (اوٹھلا) کے اپنے گاؤں کا ایک دلچسپ قصہ بتایا۔ ان کے یہاں کے ایک زمین دار نے اپنا آم کا باغ پھل کے موسم میں پھل والے کے ہاتھ فروخت کیا۔ اس کے بعد تیز آندھی آئی ، اور اکثر آم جھڑ گئے۔ باغبان زمین دار سے ملا۔ اس نے فریاد کی کہ آندھی سے پھلوں کا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page