Al-Risala · January 2020 · page 23

چہ حاجت کہ نہ کرسی آسمان

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۲۳

بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ آپ دام کم کر دیجیے ورنہ میں بالکل دیوالیہ ہو جاؤں گا۔ زمین دار نے دام کم کرنے سے انکار کر دیا ، اور کسی قسم کی رعایت دینے پر راضی نہ ہوا۔ توقیر صاحب کو باغبان پر رحم آیا۔ انھوں نے زمین دار کے سامنے باغبان کی سفارش کی۔ زمین دار بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ تم کمیونسٹ لوگ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے۔ انسان کا رزق انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے، وہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ خدا چاہے گا تو اس کو پہلے سے بھی زیادہ دے گا۔ انسان کیسا عجیب ہے۔ دوسرے کے خلاف اس کو قرآن سے بے شمار دلیلیں مل جاتی ہیں۔ مگر اپنے خلاف اس کو قرآن سے کوئی دلیل نہیں ملتی۔ زمین دار صاحب کو خود اپنے لیے تو پھل کے تاجر سے لینا تھا، مگر اس تاجر کے بارے میں انھیں یقین تھا کہ اس کو خدا سے مل جائے گا۔ ظہیر فاریابی (ظہیر الدین ابوالفضل طاہر بن محمد، وفات 1201ء) ایک فارسی شاعر تھا۔ اس نے سلجوقی بادشاہ کی مدح میں قصیدہ لکھا۔ قدیم ایرانی روایت کے مطابق اس میں اس نے زبردست مبالغہ آرائی کی۔ اس قصیدے کا ایک شعر یہ تھا :

تابوسہ بر رکاب قزل ارسلان زند نہ کرسی فلک نہد اندیشہ زیر پائے (خیال کو قزل ارسلان بادشاہ کی رکاب کو بوسہ دینے کے لیے نو آسمانوں کو پاؤں کے نیچے رکھنا پڑا)۔ اس مبالغہ پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے شیخ سعدی (مصلح الدین ابن عبداللہ شیرازی، وفات 1291ء) نے کہا:

چہ حاجت کہ نہ کرسی آسمان

(اس کی کیا ضرورت ہے کہ تم آسمان کی نو کرسیوں کو قزل ارسلان بادشاہ کے پاؤں کے نیچے رکھو) مگر شیخ سعدی نے یہ شعر اس وقت کہا تھا جب کہ وہ زیادہ تر سیر وسیاحت میں مشغول رہتے تھے، اور آزادانہ زندگی گزارتے تھے۔ اس وقت وہ ہر چیز سے بے نیاز تھے۔ وہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے کہ کسی رئیس یا بادشاہ کی مدح خوانی کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page