Al-Risala · August 2020 · page 22

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم

الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۲۲

(accountable سمجھے۔ وہ خدا کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنائے۔ اس کی پوری زندگی خدا رخی زندگی (God-oriented life) بن جائے۔

اچھے اخلاق کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دو معیار دیے ہیں۔ اچھے اخلاق کا اعلیٰ معیار یہ ہے کہ انسان، سماج کے اندر اس طرح رہے کہ اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچے۔ وہ سماج کا ایک دینے والا ممبر (giver member) بن جائے۔ اچھے اخلاق کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ آدمی اپنے سماج میں بے مسئلہ انسان (no-problem person) بن کر رہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2518)۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تم لوگ امّعہ نہ بنو، یعنی یہ کہنے لگو کہ لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے، اور لوگ بُرا سلوک کریں گے، تو ہم بھی اُن کے ساتھ ظلم کریں گے۔ اس کے برعکس تم اپنے اندر یہ مزاج پیدا کرو کہ لوگ اچھا سلوک کریں، تب بھی تم اچھا سلوک کرو، اور لوگ بُرا سلوک کریں، تو تم اُن کے ساتھ ظلم نہ کرو (إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا) جامع الترمذی، حدیث نمبر 2007۔

اس اصول کا تعلق صرف انفرادی کردار سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اجتماعی کردار سے بھی ہے۔ یہی اصول ایک خاندان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ یہی اصول ایک سماج کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہی اصول ایک قوم کو اپنی قومی پالیسی کے لیے بھی رہنما اصول کی حیثیت سے اپنانا ہے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ماڈل کی حیثیت دی گئی ہے (الأحزاب، 33:21)۔ یہ بات ہر اعتبار سے درست ہے، اور وہ سارے انسانوں کے لیے ہے۔ تمام انسانوں کی یہ ایک ضرورت ہے کہ ان کے پاس سچائی کے لیے ایک عملی ماڈل ہو۔ پیغمبر اسلام کی زندگی اس اعتبار سے ایک تاریخی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو آدمی بھی یہ چاہتا ہو کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کے پسندیدہ طریق حیات کو اختیار کرے، اُس کو چاہیے کہ وہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کرے۔ وہ آپ کی زندگی سے خدا کے پسندیدہ نمونے کو جانے اور اپنی پوری زندگی میں اس کی پیروی کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues

Printed page