خوف، بے خوفی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۲۸
خوف، بے خوفی
اکثر لوگ مسائل اور مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حالات ہمارے لیے موافق نہیں ہیں۔ ایسے مقام پر کیا کرنا چاہیے۔ مثلاً ایک مسلم ادارے سے شائع ہونے والے انگریزی میگزین میں ایک مضمون کا عنوان تھا:
Where the mind is without fear
یعنی جہاں انسان بے خوف ہو کر زندگی گزارے۔ مگر یہ تصور مطلق معنی میں درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مائنڈ کو خوف والا ہونا چاہیے۔ بے خوف مائنڈ بے پروائی کی زندگی گزارتا ہے، ایسا انسان تواضع کی صفت سے خالی ہوتا ہے، وہ ایک دوسرے سے لڑتا جھگڑتا رہتا ہے۔ ایسا انسان انجام سے بے خبر ہو کر ہر کام کرتا ہے۔ اس کو نتیجے کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، خوف انسان کو اس کی اپنی آزادی کے مس یوز (misuse) سے روکتا ہے۔ وہ مائنڈ کو متحرک کرتا ہے تاکہ مائنڈ مسائل میں الجھنے کے بجائے مواقع کو تلاش کرے۔ یہ انسان کا سب سے اچھا استاد ہے، جو مائنڈ کو الائیو (alive) رکھتا ہے۔ جو انسان کو تجربہ سکھاتا ہے۔ انسان خوف کی حالت میں سنجیدگی کے ساتھ پلاننگ کرتا ہے۔ ایسا انسان کچھ کرنے سے پہلے سوچتا ہے، اس کے بعد وہ کوئی قدم اٹھاتا ہے۔ خوف کی صورتِ حال اپنی حقیقت کے اعتبار سے انسان کے لیے ایک چیلنج کی صورت حال ہے۔
آدمی سے یہ مطلوب ہے کہ وہ چیلنج کے درمیان مواقع کو تلاش کرنا سیکھے، وہ چیلنج کو پینچ (manage) کر کے اپنی دنیا بنائے۔ ایسا اس لیے ہے تا کہ انسان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی عقل کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرے، وہ اپنی شخصیت کو زیادہ سے زیادہ ترقی یافتہ بنائے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے۔ میں ایک چڑیا خانہ (zoo) دیکھنے کے لیے گیا۔ یہ چڑیا خانہ غالباً یوپی کے کسی شہر میں واقع تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک بڑا سا گھیر ا (enclosure) ہے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues