Where the mind is without fear
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۲۹
کے اندر کچھ ہرن بیٹھے ہوئے تھے۔ چڑیا خانے کے نگراں نے کہا کہ ان ہرنوں کو دیکھیے۔ یہ بے خوفی کی حالت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ بے خوفی کی حالت ان کے لیے اچھی نہیں ہے۔ اگر وہ دیر تک بے خوفی کی حالت میں رہیں تو وہ اپنی تولیدی (fertility) صلاحیت کھو دیں گے۔ اس لیے ہم کبھی کبھی ایسا کرتے ہیں کہ اس گھیرے (enclosure) کے اندر بھیڑیا ڈال دیتے ہیں۔ بھیڑیا ہرن کے لیے ایک خوفناک جانور ہے۔ چنانچہ ہرن جب بھیڑیا دیکھتا ہے، تو وہ فوراً گھیرے کے اندر دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ بھیڑیا ہرن کو دوڑاتا ہے، اور ہرن بھیڑیا سے بچنے کے لیے تیزی سے دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ گویا جنگل والی حالت کو چڑیا گھر میں مصنوعی طور پر پیدا کرنا ہے۔ اس دوڑ دھوپ کے نتیجے میں ہرن کی تولیدی صلاحیت لوٹ آتی ہے۔ ہرن دوبارہ اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ بچے پیدا کریں۔ وہ جنگلی زندگی والے اوصاف کو دوبارہ اپنے اندر پیدا کر لیں۔ یہ فطرت کا نظام ہے۔ فطرت کا نظام انسان کے لیے بھی مطلوب ہے۔ انسان کی زندگی میں جب ٹھہراؤ آجاتا ہے تو فطری نظام کے تحت انسان کے اندر ڈر کی حالت (challenge) پیدا کی جاتی ہے۔ یہ ڈر کی حالت یا چیلنج کی حالت انسان کی تخلیقیت (creativity) کو بڑھاتی ہے۔ اس کی وجہ سے غیر تخلیقی گروہ (non-creative group) تخلیقی گروہ (creative group) بن جاتا ہے۔ یہی وہ فطری حقیقت ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (2:249)۔ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان ناموافق صورت حال میں صابرانہ طریقہ، یعنی حکیمانہ منصوبہ بندی کا طریقہ اپنائے تو بظاہر کم ہونے کے باوجود وہ زیادہ کے اوپر غالب آجائے گا۔
خوف محض ایک منفی چیز نہیں وہ ایک بصیرت ہے، جو آدمی کے ذہن کو اس طرح روشن کر دیتا ہے کہ وہ ہر چیز کو اس کے اصلی اور حقیقی (as it is) روپ میں دیکھ سکے۔ خوف یا چیلنج کسی انسانی گروہ کو تخلیقی گروہ بناتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں یہ اذن اللہ، یعنی فطرت کا نظام ہے۔ یہ فطرت
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues